مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ النور ۔ ۲
ہر ایک کے سو سو درے اور تم لوگوں کو ان دونوں پر الله کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنے پائے اگر تم الله اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے۔
شہر بدر کرنے کی سزا حنفیہ کے یہاں تعزیر کے باب سے ہے ۔ لہذا اگر امام کو اس سے فائدہ محسوس ہو تو اس کو شہر بدر کر دے گا اور باقی آئمہ کے یہاں کوڑے لگانے کے بعد زانی کو شہر بدر کیا جائے گا اور اس کو اتنی دور بھیجا جائے گا جس میں نماز قصر نہ ہوتی ہو، اور شہر بدر کرنے کا فیصلہ خلفاء راشدین نے بھی کیا تھا اور یہی بہت سے صحابہ کرام فرماتے ہیں۔
۲۔ رجم کی سزا اس زانی کے لیے ہے جو شادی شدہ ہو اس لیے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس حدیث میں جسے امام بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا اله الا الله وأنى رسول الله إلا بإحدى ثلاث
الشيب الزانى والنفس بالنفس و التارك لدينه المفارق للجماعة
جو مسلمان یہ گواہی دیتا ہو کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں اس کا خون بہانا سوائے تین باتوں میں سے ایک بات کے کسی صورت میں حلال نہیں ایسا زانی جو کہ شادی شدہ ہو، اور قتل کے بدلے قتل کیا جائے اور وہ شخص جو دین بدل دے اور جماعت المسلمین سے الگ ہو جائے۔
اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی الله تعالی عنہ اور غامدیہ عورت کے رجم کا حکم دیا تھا۔ اس لیے کہ ان دونوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعترف کر لیا تھا اور وہ دونوں شادی شدہ تھے۔
۲ ۔ لواطت کی سزا
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ لواطت زنا کے حکم میں ہے ۔ لیکن اختلاف اس میں ہے کہ سزا کیا دی جائے گی ؟ علامہ بغوی لکھتے ہیں کہ لواطت کرنے والے کی سزا کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کچھ حضرات کہتے ہیں کہ لواطت کرنے والے کی سزا وہی ہے جو زنا کی سزا ہے اگر وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا جائے گا اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور یہی ۔۔۔ امام شافعی رحمہ الله کے دونوں قولوں میں سے مشہور قول ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ لواطت کرنے والے کو رجم کیا جائے گا چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور امام مالک اور امام احمد یہی فرماتے ہیں، امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے