اب اگر حضرت علی کے خلاف حضرت طلحہ کا جنگ کے لئے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے ، اسی طرح حضرت طلحہ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جا سکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا، کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعت ربانی میں قتل ہوا ہو ۔ لہٰذا ان حضرات کے معاملہ کو اسی عقیدہ پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔
اس بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علی سے مروی ہیں اور جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ” زبیر کا قاتل جہنم میں ہے “۔
نیز حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو“ جب یہ بات ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور حضرت طلحہ کو شہید نہ فرماتے اور حضرت زبیر کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشین گوئی نہ کرتے ۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے ۔
اسی طرح جو حضرات صحابہ ان جنگوں میں کنارہ کش رہے ، انہیں بھی تاویل میں خطا کار نہیں کہا جا سکتا ، بلکہ ان کا طرز عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات پر لعن طعن کرنا ان سے برات کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا ، ان کے فضائل و مجاہدات اور ان عظیم دینی مقامات کو کالعدم کر دینا کسی طرح درست نہیں ، بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرام کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ (آیت) تلک امتہ قد خلت لھا ماکسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون، یہ ایک امت تھی جو گزر گئی ، اس کے اعمال اس لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ” ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو ان میں (رنگنے سے ) بچایا ، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا “ مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی ایک معاملے میں یقینی طور پر خطا کار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔
علامہ ابن فورک فرماتے ہیں
” ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال