ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول ﷺ وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتاہوں، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْهَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْقُرْآنِ
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص مغرب اور عشاء کے درمیان تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَيَقُولُ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي
ترجمہ:
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لیا گیا، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا توبسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے ۔