جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُوَ قَالَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے کچھ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا میری مدد رعب کے ذریعے کی گئی ہے، مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
أَنْبَأَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ فَقَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ذَكَرَ كَلِمَةً
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سوئے ہوئے تھے اور ہم قریب ہی بیٹھے دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، اچانک آپ ﷺ بیدار ہوگئے، آپ ﷺ کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم پر دجال سے زیادہ ایک دوسری چیز کا خطرہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ قُلْتُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ قَالَ يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا قُلْتُ أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ قَالَ لَا إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ خچر ہے مذکر یا مونث، میں نے پوچھا کہ یہ کس نسل سے ہوتا ہے؟ فرمایا گھوڑی پر گدھے کو سوار کر دیا جاتا ہے۔