از میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
جیسا کہ معلوم ہے درود شریف نماز کے بالکل آخر میں یعنی آخری قعدہ میں تشہد کے بعد پڑھی جاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہی اس کے لئے بہترین موقع ہو سکتا ہے ، اللہ کے بندے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و تعلیم کے صدقے میں ایمان نصیب ہوا ، اللہ تعالیٰ کو اس نے جانا پہنچانا اور نماز کی شکل میں اس کے دربار عالی کی حاضری اور حمد و تسبیح اور ذکر و مناجات کی دولت گویا ایک طرح کی معراج اسے نصیب ہوئی اور آخری قعدہ کے تشہد پر یہ نعمت گویا مکمل ہو گئی ۔ اب اس کو حکم ہے کہ اللہ کے دربار سے رخصت ہونے سے پہلے اور اپنے لئے کچھ مانگنے سے بھی پہلے وہ بندہ حضڑت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس احسان کو محسوس کرتے ہوئے کہ انہی کی ہدایت کے صدقے میں اس دربار تک رسائی ہوئی اور یہ سب کچھ نصیب ہوا ۔ اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی شریک ازواج مطہرات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت طیبہ کے لئے بہتر سے بہتر دعا کرے ۔ اس کے سوا اور اس سے بہتر کوئی چیز اس کے پاس ہے ہی نہیں جس کو پیش کر کے وہ اپنے جذبہ ممنونیت کا اظہار اور احسان مندی کا حق ادا کر سکے ۔ اسی کے لئے درود شریف کے یہ بہترین کلمے صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائے ۔
یہاں درود شریف کا یہ بیان نماز کے سلسلے میں آیا تھا اس لئے صرف انہی دو حدیثوں پر یہاں اکتفا کیا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ اس سلسلے میں قابل ذکر جو حدیثیں درود شریف کے فضائل وغیرہ سے متعلق کتب حدیث میں روایت کی گئی ہیں ان شاء اللہ وہ “ کتاب الدعوات ” میں اپنے موقع پر درج ہوں گی اور مندرجہ بالا درود ابراہیمی کے علاوہ “ صلوٰۃ و سلام ” کے جو اور صیغے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قابل اعتماد سندوں کے ساتھ مروی ہیں وہ بھی ان شاء اللہ وہیں درج ہوں گے ۔
درود شریف کے بعد اور سلام سے پہلے دعا
ابھی مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ کا یہ ارشاد ذکر کیا جا چکا ہے کہ نمازی تشہد کے بعد درود شریف پڑھے اور اس کے بعد دعا کرے ۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ ہی کی ایک حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے دعا کا یہ حکم گالبا اس وقت بھی تھا جب کہ تشہد کے بعد درود شریف پڑھنے کا حکم نہیں کیا گیا تھا ۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ کی ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ سے تشہد کی تلقین والی حدیث ہی کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے :
ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ
یعنی نمازی جب تشہد پڑھ چکے تو جو دعا اسے اچھی معلوم ہو اس کا انتخاب کر لے ، اور اللہ سے وہی دعا کرے ۔
اور یہی بات ( کہ تشہد کے بعد دعا کی جائے ) آگے درج ہونے والی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اعنہ کی حدیث