رسولا
ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
’’یٰسین۔ انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم‘‘ اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)
’’انا ارسلنا احمد الٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذّاب اشر‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۳، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳)
’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الٰی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراما کما جرت سنتی فی الاوّلین‘‘ (انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)
’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)
ان تمام عبارات سے صاف عیاں ہے کہ مرزائے قادیان مستقل اور تشریعی نبوت کا مدعی تھا اور وہ اپنی نبوت ورسالت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کے ہم پلّہ بلکہ اس سے بڑھ کر سمجھتا تھا۔ جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے اور یہ عبارتیں اس قدر صریح اور واضح ہیں کہ ان میں ظلیت اور بروزیت کی تاویل نہیں چل سکتی۔
ان تصریحات کے باوجود مرزاقادیانی نے اپنی پردہ پوشی اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے ظل اور بروز کی اصطلاح نکالی۔ تاکہ ختم نبوت کی نصوص قطعیہ کی مخالفت سے بچنے کے لئے ایک جدید راہ نکل آئے اور دفع الزام کے لئے یہ کہہ دیا جائے کہ میں مستقل نبی نہیں بلکہ بروزی اور ظلی نبی ہوں۔
اگر نبوت تشریعی یا غیرتشریعی کا دروازہ حسب ارشاد خداوندی خاتم