وضو کے مسائل
غسل سے پہلے وضو کرنے کی تفصیل

س… ایک قاری کے ایک سوال کے جواب میں آپ نے غسل اور وضو کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ غسل کرنے سے وضو ہوجاتا ہے، اس لئے غسل کے بعد وضو کرنے کی ضرورت نہیں، نماز پڑھی جاسکتی ہے، بلکہ جب تک اس غسل سے کم از کم دو رکعت نہ پڑھ لی جائیں دوبارہ وضو کرنا گناہ ہے۔

میں نے خود بارہا یہ مسئلہ کتابوں میں پڑھا ہے، لیکن آپ جیسے اہلِ علم حضرات سے کبھی استفادہ نہیں کیا اور اب تک شکوک و شبہات میں مبتلا رہا، برائے کرم میری تسلی و تشفی کے لئے اور دیگر مجھ جیسے قارئین کی بھلائی کی خاطر ذرا تفصیلاً اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ وضو میں ایک مرتبہ چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، اب اگر ایک شخص پر غسل کرنا فرض ہے تب تو وہ وضو بھی کرے گا، لیکن ایک شخص پاکی کی حالت میں غسل کرتا ہے تو ظاہر ہے وہ وضو نہیں کرے گا۔ پھر چوتھائی سر کا مسح چہ معنی؟ اور وہ کس طرح صرف غسل سے نماز پڑھ سکتا ہے، ایک حدیث پیشِ خدمت ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے اور غسل سے پہلے جو وضو کرتے تھے اسی پر اکتفا فرماتے تھے۔ (ترمذی، ابوداوٴد، ابنِ ماجہ) مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے پہلے کے وضو پر اکتفا فرماتے تھے، یعنی وضو ضرور فرماتے تھے، لہٰذا مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں کہ بغیر وضو کے غسل سے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں، جبکہ سر کا مسح وضو میں فرض ہے؟

ج… وضو نام ہے تین اعضاء (منہ، ہاتھ اور پاوٴں) کے دھونے اور سر کے مسح کرنے کا۔ اور جب آدمی نے غسل کرلیا تو اس کے ضمن میں وضو بھی ہوگیا۔ غسل سے پہلے وضو کرلینا سنت ہے، جیسا کہ آپ نے حدیث شریف نقل کی ہے، لیکن اگر کسی نے غسل سے پہلے وضو نہیں کیا تب بھی غسل ہوجائے گا، اور غسل کے ضمن میں وضو بھی ہوجائے گا، مسح کے معنی تر ہاتھ سر پر پھیرنے کے ہیں، جب سر پر پانی ڈال کر مل لیا تو مسح سے بڑھ کر غسل ہوگیا۔ بہرحال عوام کا یہ طرزِ عمل کہ وہ غسل کے بعد پھر وضو کرتے ہیں، بالکل غلط ہے، وضو غسل سے پہلے کرنا چاہئے تاکہ غسل کی سنت ادا ہوجائے، غسل کے بعد وضو کرنے کا کوئی جواز نہیں۔