استعمال کے برتنوں پر زکوٰة

س… ایسے برتن (مثلاً: دیگ، بڑے دیگچے وغیرہ) جو سال میں دو تین بار استعمال ہوں، ان کی بھی زکوٰة قیمتِ خرید موجودہ پر ہوگی (تانبے کی)، یا اس قیمت پر جس پر کہ دُکاندار پُرانے (غیرشکستہ) برتن خرید کر ادا کرتے ہیں؟

ج… ایسے برتن جو استعمال کے لئے رکھے ہوں خواہ ان کے استعمال کی نوبت کم ہی آتی ہو، ان پر زکوٰة واجب نہیں۔

ادویات پر زکوٰة

س… دُکان میں پڑی ادویات پر زکوٰة لازم ہے یا صرف اس کی آمدنی پر؟

ج… ادویات کی قیمت پر بھی لازم ہے۔

واجب الوصول رقم کی زکوٰة

س… میں ایک ایسا کام کرتا ہوں کہ خدمات کی انجام دہی کی رقوم کافی لوگوں کی طرف واجب الوصول رہتی ہیں، اور وصولی بھی پانچ چھ مہینے بعد ہوتی ہے، کچھ لوگوں سے وصولی کی بہت کم اُمید ہوتی ہے، کیا ان واجب وصول رقوم پر زکوٰة دینی چاہئے یا جب وصول ہوجائیں اس کے بعد؟

ج… کاریگر کو کام کرنے کے بعد جب اس کا حق الخدمت (اُجرت، مزدوری) وصول ہوجائے تب اس کا مالک ہوتا ہے، پس اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو جب آپ کا زکوٰة کا سال پورا ہو، اس وقت تک جتنی رقوم وصول ہوجائیں ان کی زکوٰة ادا کردیا کیجئے، اور جو آئندہ سال وصول ہوں گی ان کی زکوٰة بھی آئندہ سال دی جائے گی۔

حصص پر زکوٰة

س… میرے پاس ایک کمپنی کے سات سو حصص ہیں، جن کی اصلی قیمت دس روپیہ فی حصص ہے، جبکہ موجودہ قیمت ۳۰ روپے فی حصص ہے، زکوٰة کون سی قیمت پر واجب ہوگی؟

ج… حصص کی اس قیمت پر جو وجوبِ زکوٰة کے دن ہو۔

س… جمعہ کی اشاعت میں حصص پر زکوٰة کی ادائیگی کے بارے میں مسئلہ پڑھا، لیکن سوال یہ ہے کہ تمام محدود کمپنیاں زکوٰة و عشر آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۰ء کے تحت کمپنی کے اثاثہ جات پر زکوٰة منہا کرتی ہیں، اور یہ رقم اس آرڈیننس کی دفعہ۷ کے مطابق قائم شدہ سنٹرل زکوٰة فنڈ کو منتقل کردی جاتی ہیں، نیز یہ اداشدہ زکوٰة حصص داران کے حصص کے تناسب کے حساب سے ان کے حاصل شدہ منافع میں سے کاٹ لی جاتی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ ایک مرتبہ اجتماعی کاروبار سے زکوٰة منہا ہوجانے کے بعد بھی دوبارہ ہر حصہ دار کو اپنے ان حصص پر انفرادی طور پر زکوٰة ادا کرنی ہوگی؟

ج… اگر حصہ داروں کے حصص سے زکوٰة وصول کرلی گئی تو ان کو انفرادی طور پر اپنے حصوں کی زکوٰة دینے کی ضرورت نہیں، البتہ اس میں گفتگو ہوسکتی ہے کہ حکومت جس انداز سے زکوٰة کاٹ لیتی ہے، وہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور اس سے زکوٰة ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟ بہت سے علماء، حکومت کے طریقِ کار کی تصویب کرتے ہیں، اور اس سے زکوٰة ادا ہوجانے کا فتویٰ دیتے ہیں، جبکہ بہت سے علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، اور وہ حکومت کی کاٹی ہوئی زکوٰة کو اداشدہ نہیں سمجھتے، ان حضرات کے نزدیک ان تمام رقوم کی زکوٰة مالکان کو خود ادا کرنی چاہئے جو حکومت نے وضع کرلی ہو۔