صدقہ کا طریقہ

س… ۱: صدقہ کے معنی کیا ہیں؟ ۲:بعض لوگ اپنی جان اور مال کا صدقہ دیتے ہیں، اس کا کیا مقصد ہے؟ ۳:کیا صدقہ کوئی خاص قسم کی خیرات ہے جو کہ دی جاتی ہے؟ ۴:صدقہ میں کیا دینا چاہئے اور کن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے؟ ۵:کیا سیّد کو صدقہ دینا جائز ہے؟ اگر ہمیں ان کی مالی خدمت کرنا مقصود ہو تو کیا نیت ہونی چاہئے؟ ۶:بہت سے لوگ تھوڑا سا گوشت منگاکر چیلوں کو لٹادیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جان کا صدقہ ہے، کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ اگر نقد رقم غریبوں کو دی جائے تو یہ عمل کیسا ہے؟ یا وہ گوشت غریبوں میں تقسیم کردیا جائے؟ ۷:اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ کالی مرغی یا کالا بکرا ہی صرف صدقے کے طور پر دیتے ہیں، کیا کالی چیز دینا ضروری ہے؟

ج… صدقہ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے خیر کے کاموں میں مال خرچ کرنا، صدقہ کی قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں بڑی فضیلت اور ترغیب آئی ہے، مصائب اور تکالیف کے رفع کرنے میں صدقہ بہت موٴثر چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو مال بھی خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے، وہ کسی محتاج کو نقد روپیہ پیسے دے یا کھانا کھلادے یا کپڑے دے دے یا کوئی اور چیز دے دے۔ کالا بکرا یا کالی مرغی کی کوئی خصوصیت نہیں، نہ صدقے کے لئے بکرا یا مرغی ذبح کرنا ہی کوئی شرط ہے، بلکہ اگر ان کی نقد قیمت کسی محتاج کو دے دے تو اس کا بھی اتنا ہی ثواب ہے۔ چیلوں کو گوشت ڈالنا اور اس کو جان کا صدقہ سمجھنا بھی فضول بات ہے۔ ہاں! کوئی جانور بھوکا ہو تو اس کو کھلانا پلانابلاشبہ موجبِ اجر ہے۔ لیکن ضرورت مند انسان کو نظرانداز کرکے چیلوں کو گوشت ڈالنا لغو حرکت ہے۔ صدقہ غریبوں، محتاجوں کو دیا جاتا ہے، سیّد کو صدقہ نہیں دینا چاہئے، بلکہ ہدیہ اور تحفہ کی نیت سے ان کی مدد کرنی چاہئے، تاہم ان کو نفلی صدقہ دینا جائز ہے، زکوٰة اور صدقہٴ فطر نہیں دے سکتے، اسی طرح علماء و صلحاء کو بھی صدقہ کی نیت سے نہیں بلکہ ہدیہ کی نیت سے دینا چاہئے۔

صدقہ کی ایک قسم صدقہٴ جاریہ ہے، جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، مثلاً کسی جگہ پانی کی قلت تھی، وہاں کنواں کھدوادیا، مسافروں کے لئے مسافرخانہ بنوادیا، کوئی مسجد بنوادی یا مسجد میں حصہ ڈال دیا، یا کوئی دینی مدرسہ بنادیا یا کسی دینی مدرسہ میں پڑھنے والوں کی خوراک پوشاک اور کتابوں وغیرہ کا انتظام کردیا، یا کسی مدرسہ کے بچوں کو قرآن مجید کے نسخے خرید کر دئیے یا اہلِ علم کو ان کی ضروریات کی دینی کتابیں لے کر دے دیں، وغیرہ۔ جب تک ان چیزوں کا فیض جاری رہے گا، اس شخص کو مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔