متفرق مسائل ۱
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ رَدِّ شمس

س… گزشتہ دنوں ایک مولانا صاحب نے مقامی مسجد میں اتباعِ رسول کے موضوع پر وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانو پر سر رکھ کر لیٹے کہ اتنے میں انہیں نیند آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، اِدھر عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا، انہوں نے سوچا کہ نماز تو پھر مل جائے گی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی قربت نہ جانے پھر نصیب ہوگی یا نہیں؟ اتنے میں سورج غروب ہوگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو سورج غروب ہوچکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ: نماز پڑھنا چاہتے ہو یا قضا پڑھو گے؟ حضرت علی نے فرمایا کہ: قضا نہیں پڑھنا چاہتا! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو حکم دیا، سورج دوبارہ نکل آیا اور حضرت علی نے نماز پڑھی۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز تو قضا کرلی مگر زانو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ جگایا۔

اس میں تفصیل طلب بات یہ ہے کہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز پڑھ لی یا نماز پڑھنے سے پہلے سوگئے یا دونوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں بیٹھے رہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اور پھر نبی جب سوتا ہے تو غافل نہیں ہوتا، نبی کا دل جاگ رہا ہوتا ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی سوجائے، اس کی اپنی نماز قضا ہوجائے یا اس کے رفیق کی؟

مولانا کی گفتگو سے مندرجہ بالا اشکالات میرے ذہن میں آئے، امید ہے کہ ان کا جواب دے کر ممنون فرمائیں گے اور بتلائیں گے کہ آیا یہ واقعہ صحیح احادیث سے ثابت ہے یا واقعہ کی حد تک ہے؟

ج… حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے ردّ شمس کی حدیث امام طحاوی رحمہ اللہ نے مشکل الآثار (ج:۲ ص:۹) میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، بہت سے حفاظِ حدیث نے اس کی تصحیح فرمائی ہے، امام طحاوی نے اس کے رجال کی توثیق کرنے کے بعد حافظ احمد بن صالح مصری کا یہ قول نقل کیا ہے:

“لا ینبغی لمن کان سبیلہ العلم التخلف عن حفظ حدیث اسماء الذی روی لنا عنہ، لانہ من اجل علامات النبوة۔” (مشکل الآثار ج:۲ ص:۱۱)

ترجمہ:…”جو شخص علمِ حدیث کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہو اسے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، یاد کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ یہ جلیل القدر معجزاتِ نبوت میں سے ہے۔”

حافظ سیوطی رحمہ اللہ “اللآلی المصنوعہ” میں لکھتے ہیں:

“ومما یشھد بصحة ذالک قول الامام الشافعی وغیرہ ما اوتی نبی معجزة الا اوتی نبینا صلی الله علیہ وسلم نظیرھا، او ابلغ منھا، وقد صح ان الشمس حسبت علیٰ یوشع (علیہ السلام) لیالی قاتل الجبارین، فلا بد ان یکون لنبینا صلی الله علیہ وسلم نظیر ذالک فکانت ھذہ القصة نظیر تلک۔”

(مشکل الآثار ج:۱ ص:۳۴۱)

ترجمہ:…”اور من جملہ ان اُمور کے جو اس واقعہ کے صحیح ہونے کی شہادت دیتے ہیں، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہ ارشاد ہے کہ کسی نبی کو جو معجزہ بھی دیا گیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نظیر عطا کی گئی، یا اس سے بھی بڑھ کر، اور صحیح احادیث میں آچکا ہے کہ سورج، حضرت یوشع علیہ السلام کے لئے روکا گیا تھا، جبکہ انہوں نے جبارین سے جہاد کیا، پس ضروری تھا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی اس کی نظیر واقع ہوتی، چنانچہ یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ کی نظیر ہے۔”

امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس قصہ کو موضوعات میں شمار کیا ہے، اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی “منہاج السنة” میں بڑی شد و مد سے اس کا انکار کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ “فتح الباری” میں لکھتے ہیں:

“وھذا ابلغ المعجزات، وقد اخطأ ابن الجوزی فی ایرادہ فی الموضوعات، وکذا ابن تیمیة فی کتاب الرد علی الروافض فی زعم وضعہ، والله اعلم!” (ج:۶ ص:۲۲۲)

ترجمہ:…”ردّ شمس کا یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ سے بلیغ تر ہے، ابن جوزی نے اس واقعہ کو موضوعات میں درج کرکے غلطی کی ہے، اسی طرح ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں جو ردّ روافض پر لکھی گئی ہے، اس کو موضوع قرار دے کر غلطی کی ہے۔”

حافظ سیّد مرتضیٰ زبیدی رحمہ اللہ “شرح احیا” میں لکھتے ہیں:

“وھذا تحامل من ابن الجوزی، وقد ردّ علیہ الحافظان السخاوی والسیوطی، وحالہ فی ادراج الاحادیث الصحیحة فی حین الموضوعات معلوم عند الائمة، وقد ردّ علیہ وعابہ کثیرون من اھل عصرہ ومن بعدھم کما نقلہ الحافظ العراقی فی اوائل نکتہ علی ابن الصلاح فلا نطیل بذکرہ، وھذا الحدیث صححہ غیر واحد من الحفاظ حتی قال السیوطی ان تعدد طرقہ شاھد علیٰ صحتہ، فلا عبرة بقول ابن الجوزی۔”

(اتحاف شرح احیا ٴ ج:۷ ص:۱۹۲)

ترجمہ:…”اس واقعہ کو موضوعات میں شمار کرنا ابن جوزی کی زیادتی ہے، حافظ سخاوی اور حافظ سیوطی نے ان پر ردّ کیا ہے، اور ابن جوزی جس طرح صحیح احادیث کو موضوعات میں ذکر کرجاتے ہیں وہ ائمہ کو معلوم ہے، ان کی اس رَوِ ش پر ان کے معاصرین نے بھی اور بعد کے حضرات نے بھی ان کی عیب چینی کی ہے، جیسا کہ حافظ عراقی  نے اپنی کتاب “نکت ابن صلاح” کے اوائل میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو بہت سے حفاظِ حدیث نے صحیح کہا ہے۔ سیوطی کہتے ہیں کہ: اس کے طرق کا متعدد ہونا اس کی صحت پر شاہد ہے، اس لئے ابن جوزی کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔”

بہرکیف! یہ واقعہ صحیح ہے اور اس کا شمار معجزاتِ نبوی میں ہوتا ہے، رہا آپ کا یہ کہنا کہ: “یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہ پڑھی ہو؟” اس کا جواب خود اسی حدیث میں موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا، جب وہ اس کام سے واپس آئے تو نماز ہوچکی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ یہ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔

اور آپ کا یہ کہنا کہ: “نبی سوتا ہے تو اس کا دل جاگتا ہے، پھر نماز کیسے قضا ہوسکتی ہے؟” اس کا جواب یہ ہے کہ نماز کے اوقات کا مشاہدہ کرنا دل کا کام نہیں، بلکہ آنکھوں کا کام ہے، اور نیند کی حالت میں نبی کی آنکھ سوتی ہے، دل جاگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ “لیلة التعریس” میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقا کی نمازِ فجر قضا ہوئی، والله اعلم!