آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ رہتا نہیں تھا

س… ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فقر و فاقے کے متعلق سیکڑوں واقعات اور احادیث شریف کا ذخیرہ ہے اور دوسری طرف انہیں کتابوں میں اچھا خاصا سامان مثلاً تیس غلام، سو بکریاں، گھوڑے، خچر، اونٹنیاں وغیرہ کی ملکیت آپ کی طرف منسوب کی گئی ہے، ابن قیم کی زاد المعاد اور مولانا تھانوی کی نشرالطیب میں اس کی پوری تفصیل ہے، یہ تضاد کیسے رفع ہو؟

ج … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز رہتی نہیں تھی، آتا تھا اور بہت کچھ آتا تھا مگر چلا جاتا تھا، زاد المعاد یا نشرالطیب میں ان چیزوں کی فہرست ہے جو وقتاً فوقتاً آپ کے پاس رہیں، یہ نہیں کہ ہمہ وقت رہیں۔

س … طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مینڈھا تمام امت کی طرف سے اور ایک اپنی آل اولاد کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص قربانی نہیں کرتا تھا۔

ج… “قربانی کیا کرتے تھے” کے الفاظ تو مجھے یاد نہیں، جہاں تک مجھے یاد ہے ایک مینڈھا آپ نے قربان کیا اور فرمایا کہ یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہ کرسکیں۔ مشکوٰة شریف ص:۱۲۷ میں بروایت مسلم حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے مینڈھا ذبح فرمایا اور دعا کی یا اللہ قبول فرما محمد کی طرف سے اور آل محمد سے اور امت محمدیہ کی طرف سے، ایک مینڈھے میں تو دو آدمی بھی شریک نہیں ہوسکتے، اس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ہر شخص قربانی نہیں کرتا تھا صحیح نہیں۔