میّت کے گھر کا کھانا

س… میّت کے گھر کھانا اور جو لوگ میّت کے گھر آئیں ان کو کھلانا دونوں کو علمأ منع کرتے ہیں جب کہ بہت سے صحابہ اور اہل اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے میں شریک لوگوں کو کھانا کھلانا، حضرت ابوذر نے بکری اور حضرت عمران بن حصین نے اونٹ ذبح کرکے کھلانے کی وصیت کی، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک میّت کو دفن کرکے اہل میّت کے گھر کھانے کو گئے مگر بکری چونکہ مالک کی مرضی کے بغیر ذبح ہوئی تھی اس لئے بغیر کھائے واپس آگئے۔

ج… میّت والوں کو کھلانے کا تو حکم ہے اس سے منع نہیں کیا جاتا، جس چیز سے منع کیا جاتا ہے وہ میّت کے ایصال ثواب کا کھانا کھانا ہے، “طعام المیّت یمیتُ القلب” (مردے کا کھانا دل کو مردہ کرتا ہے) حضرت ابوذر کی وصیت آنے والے مہمانوں کو کھلانے کی تھی اور مہمانوں کو کھلانے سے منع نہیں کیا جاتا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس واقعہ کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس روایت کے نقل کرنے میں صاحب مشکوٰة سے تسامح ہوا ہے، مشکوٰة میں “فاستقبلہ داعی امراتہ۔” کے الفاظ ہیں جس کا مفہوم ہے: “آپ اہل میّت کے یہاں کھانے کے لئے گئے” اصل کتاب میں جو الفاظ منقول ہیں اس کا مفہوم ہے: “واپسی میں کسی عورت کے قاصد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔” یہ بلانے والی عورت اہل میّت سے نہیں تھی لہٰذا اس روایت سے میّت کے گھر کا کھانا کھانے پر استدلال صحیح نہیں۔