(مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں کو دفن کرنا جائز نہیں!)از… مولانا عبداﷲ کلام
بسم اﷲ الرحمن الرحیم!

سوال… اگر کوئی امام کسی مرزائی کا جنازہ پڑھادے اور امام کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ وہ مرزائی ہے۔ جب کہ محلے کے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ یہ مرزائی ہے اور کفن دفن کا انتظام بھی محلے والے مسلمانوں نے کیا ہے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفنادیا ہے۔
مسلمانوں کا مذکورہ مرزائی کے ساتھ یہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟۔ نیز امام کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا نکاح باقی ہے یا ٹوٹ گیا؟ اور اسی طرح سے ان مسلمانوں کا نکاح (جنہوں نے اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی مرزائی کا علم ہونے کے باوجود) باقی ہے یا ٹوٹ گیا؟۔ براہ کرم دلائل سے جواب عنایت فرمائیں۔مستفتی غوث بخش سکھر
الجواب باسمہ تعالیٰ!
صورت مسئولہ میں اولاً یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مرزائی باتفاق علمائے امت‘ کافر‘ محارب‘ زندیق اور مرتد ہیں۔ ان کو کسی بھی اعتبار سے عزت اور شان کا مرتبہ نہیں دینا چاہئے اور اسلام کی غیرت ایک لمحہ کے لئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ رکھا جائے۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے ساتھ کلیتاً قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ مائدہ میں ارشاد ہے کہ:
’’یاایھا الذین آمنو لاتتخذوا الیھود والنصاریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعض۰ ومن یتولھم منکم فانہ منھم۰ ان اﷲ لایھدی القوم الضالمین۰ مائدہ:۵۱‘‘ {اے ایمان والو! مت بنائو یہود اور نصاریٰ کو دوست۔ وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے‘ اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے۔ اﷲ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔}
اس آیت کے تحت امام ابوبکرجصاص رازیؒ تفسیر احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ:
’’وفی ھذہ الآیۃ دلالۃ علی ان الکفار لایکون ولیاً للمسلمین لافی التصرف ولا فی النصرۃ وتدل علی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ بھم لان الولایۃ ضد العداوۃ فاذا امرنا بمعادات الیھود والنصاریٰ لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم والکفرملۃ واحد۰ ص۴۴۴ج۲‘‘ {اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہوسکتا۔ نہ تو معاملات میں اور نہ امداد وتعاون میں اور اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور اس سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود ونصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے تو دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں۔ کیونکہ سارے کافر ایک ہی ملت کے حکم میں ہیں۔}
نیز دوسری جگہ سورۃ انعام میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے کہ:
’’واذا رائیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنھم حتیٰ یخضوا فی حدیث غیرہ۰ واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الضالمین۰ انعام ۶۸‘‘ {اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو کہ