ترجمہ: ’’اے ایمان لانے والو! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔‘‘
نوٹ:… یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کررہی ہے کہ ہم کو صرف حضور علیہ السلام کی نبوت اور آپؐ کی وحی اور آپؐ سے پہلے انبیأ اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور علیہ السلام کے بعد کوئی بعہدئہ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا، معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔
۸:… ’’و الذین یؤمنون بما انزل الیک و ما انزل من قبلک و بالآخرۃ ھم یوقنون۔ اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون۔‘‘ (سورئہ بقرہ: ۴،۵)
ترجمہ: ’’جو ایمان لاتے ہیں، اس وحی پر جو آپؐ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپؐ سے پہلے نازل کی گئی اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
۹:… ’’لٰکن الراسخون فی العلم منھم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک۔‘‘ (سورئہ نسأ: ۱۶۲)
ترجمہ: ’’لیکن ان میں سے راسخ فی العلم اور ایمان لانے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپؐ پر نازل ہوئی اور جو آپؐ سے پہلے انبیأ علیہم السلام پر نازل ہوئی۔‘‘
نوٹ:… یہ دونوں آیتیں ختم نبوت پر صاف طور سے اعلان کررہی ہیں بلکہ قرآن شریف میں سینکڑوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں جن میں ماقبل کے نبیوں کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان رکھنے کے لئے حکم فرمایا گیا لیکن مابعد کے نبیوں کا ذکر بھی نہیں آتا۔ ان دو آیتوں میں صرف حضور علیہ السلام کی وحی اور حضور علیہ السلام سے پہلے نبیوں علیہم السلام کی وحی پر ایمان لانے کو کافی اور مدار نجات فرمایا گیا ہے اگر حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نبی بنایا جائے، اس کی وحی پر بھی ایمان لانامدار نجات ہوگا حالانکہ قرآن کریم کے یہ احکام اور وعدے کبھی منسوخ نہیں ہوسکتے۔
۱۰:… ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحٰفظون۔‘‘
(سورئہ حجر: ۹)
ترجمہ: ’’تحقیق ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘
نوٹ:… خداوندعالم نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہم خود قرآن کریم کی حفاظت فرمائیں گے یعنی محرفین کی تحریف اور متغیرین کے تغیر سے اس کو بچائے رکھیں گے قیامت تک کوئی شخص اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی کمی زیادتی نہیں کرسکتا ،اور نیز اس کے احکام کو بھی قائم اور برقرار رکھیں گے اس کے بعد کوئی شریعت نہیں جو اس کو منسوخ کردے، غرض قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا، نہ صاحب شریعت جدیدہ اور نہ ایسا نبی جو کتاب سابق کے متغیر اور محرف ہونے اور اصل تعلیم مٹ جانے کے بعد شریعت سابقہ کی وحی کرکے اسی شریعت و کتاب سابق کی اقامت کے لئے مبعوث کیا جاتا ہے۔