کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اسمائے گرامی آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔ اول ’’الحاشر‘‘، حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی و لا شریعۃ … فلما کان لا أمۃ بعد امتہ لأنہ لا نبی بعدہ، نسب الحشر الیہ، لأنہ یقع عقبہ۔ ‘‘ (فتح الباری ص ۴۰۶ ج ۶)
ترجمہ: ’’یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں… سو چونکہ آپؐ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس لئے حشر کو آپؐ کی طرف منسوب کردیا گیا، کیونکہ آپؐ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔‘‘
دوسرا اسم گرامی: ’’العاقب‘‘ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ: ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ (آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں)
حدیث ۱۰:…
متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
’’بعثت أنا والساعۃ کھاتین‘‘
(مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے)
ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ امام قرطبی ’’تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وأما قولہ بعثت أنا والساعۃ کھاتین فمعناہ أنا النبی لأخیر فلا یلینی نبی آخر، وانما تلینی القیامۃ کما تلی السبابۃ الوسطی ولیس بینھما اصبع أخری …… ولیس بینی وبین القیامۃ نبی۔‘‘
(التذکرۃ فی أحوال الموتی وأمور الآخرۃ ص ۷۱۱)
ترجمہ: ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ : مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی نہیں، میرے بعد بس قیامت ہے، جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی کے متصل واقع ہے، دونوں کے درمیان اور کوئی انگلی نہیں… اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔‘‘
علامہ سندھیؒ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں:
’’التشبیہ فی المقارنۃ بینھما، أی لیس بینھما رجع اخری کما أنہ لا نبی بینہ صلی اللہ علیہ وسلم وبین الساعۃ۔‘‘ (حاشیہ علامہ سندھیؒ برنسائی ص ۲۳۴ ج۱)