ترجمہ: ’’تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے)، یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔‘‘
ختم نبوت پر اجماعِ امت:
حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ ’’الاقتصاد‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ان الأمۃ فھمت بالاجماع من ھذا اللفظ و من قرائن أحوالہ أنہ أفھم عدم نبی بعدہ أبدا … و أنہ لیس فیہ تأویل و لا تخصیص فمنکر ھذا لا یکون الا منکر الاجماع۔‘‘ (الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)
ترجمہ: ’’بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں۔‘‘
ختم نبوت پر تواتر:
حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں:
’’وبذلک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ص ۴۹۳ ج ۳)
ترجمہ: ’’اور ختم نبوت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں، جن کو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔‘‘
اور علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:
’’و کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب و صدعت بہ السنۃ و أجمعت علیہ الأمۃ فیکفر مدعی خلافہ و یقتل ان اصر۔‘‘ (روح المعانی ص ۳۹ ج ۲۲)
ترجمہ: ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘
پس عقیدئہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔

سوال:۴: … مرزائی ختم نبوت کے معنی میں کیا تحریف کرتے ہیں؟ قادیانی مؤقف مختصر مگر جامع طور پر تحریر فرمائیں، ساتھ ہی اس کا مختصر اور جامع جواب بھی دیں۔