بسم اﷲ الرحمن الرحیم
پیش لفظ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۰ اما بعد!

اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’احتساب قادیانیت جلد اول‘‘ کے نام سے رد قادیانیت پر مناظراسلام مولانا لال حسین اختر ؒکے مجموعہ رسائل کو شائع کیا۔اور’’ احتساب قادیانیت جلد دوم‘‘ میں محقق العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے رسائل کو شائع کیا گیا۔حضرت کاندھلویؒ کے رسائل کی ترتیب وتخریج کے دوران میںعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیرحکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے تحریراً حکم فرمایا کہ اس کے بعد مولانا حبیب اﷲ امرتسریؒ کے رسائل کو شائع کیا جائے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان رسائل کی تخریج وتحقیق کا کام کریں۔ انہوں نے بڑی جانفشانی وتندہی سے ان رسائل پر کام کیا۔ قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوںکے صفحات لگائے‘ سن اشاعت کے اعتبار سے ترتیب قائم کی‘ ان کا کا م مکمل ہوا توتفسیرو حدیث ‘تاریخ وسیرت وغیرہ کے حوالہ جات کا کام مولانا اﷲ وسایا مدظلہ کے ذمہ لگایا گیا۔ عزیزمحترم ماسٹر عزیز الرحمن رحمانی نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ یوں تقریباً سال بھر کی محنت کے بعد یہ مجموعہ رسائل مولانا حبیب اﷲ امرتسریؒ’’احتساب قادیانیت جلد سوئم‘‘ کے نام سے آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اعزاز حاصل کررہی ہے۔
مولانا حبیب اﷲامرتسری ؒ کا تعلق امرتسرسے تھا ۔ا نہوں نے دینی تعلیم مولانا مفتی محمد حسنؒ بانی جامعہ اشرفیہ سے حاصل کی اور انہی کے زیر اثر انہوں نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔(ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ ج۷۳ش۱۱ ص۸)اور محکمہ نہر میں کلرک تھے۔ مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کے ساتھ ردقادیانیت پر کام کرتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے قوت حافظہ کی نعمت سے نوازا تھا۔ آپ کو حافظ مرزائیات کہا جاتا تھا۔تحریر اور تقریر میں خاص ملکہ حاصل تھا اور صوبہ پنجاب میں ان کی تقاریر کو بڑی مقبولیت حاصل تھی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور دوسرے قادیانی مصنفین کی کتابیں ان کو از بر تھیں۔ قادیانیت کی تردید میں آپ نے بے شمار مضامین اخبار اہل حدیث امرتسر میں لکھے۔ اس کے علاوہ آپ نے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار ونظریات کے خلاف تقریباً۱۸ کتابیںلکھیں۔ آپ کی یہ کتابیں حجم کے لحاظ سے گو مختصر ہیں۔ لیکن اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت بھاری ہیں۔ ان کتب کی تفصیل یہ ہے:
۱… مراق مرزا‘شوال ۱۳۴۷؁ھ اپریل۱۹۲۹؁ء
۲…مرزائیت کی تردیدبطرزجدید‘شعبان۱۳۵۱؁ھ دسمبر۱۹۳۲؁ء
۳…حضرت مسیح کی قبرکشمیر میں نہیں‘شوال۱۳۵۱؁ھ فروری۱۹۳۳؁ء
۴…عمر مرزا‘صفر ۱۳۵۲؁ھ جون ۱۹۳۳؁ء