بسم اﷲ الرحمن الرحیم!

دیباچہ احتساب قادیانیت جلد ہشتم

الحمدﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علیٰ من لانبی بعدہ۰ امابعد!
احتساب قادیانیت کی اس جلد میں فاتح قادیان‘ مناظر اسلام‘ حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کے ردقادیانیت پر مشتمل رسائل کے مجموعہ کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ فالحمدﷲ اولاً وآخراً !
حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ (وفات ۱۵مارچ۱۹۴۸ئ) فاضل اجل متبحر عالم دین تھے۔ حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زندگی بھر فتنہ قادیانیت کے خلاف آپ صف آراء رہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کو فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے ہی پیدا کیا تھا۔ آپ نے جہاں حضرت مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادیؒ‘ حضرت مولانا احمد حسن کانپوریؒ سے علم حدیث حاصل کیا۔ وہاں آپ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے بھی شاگرد رشید اور ان کے قابل رشک تلامذہ میں سے تھے۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ قادیان میں آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کی زیر صدارت خطاب کیااور ان سے دعائیں حاصل کیں۔حضرت مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے اپنی تصنیف ’’فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ‘‘ اور حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدرویؒ نے ’’سیرۃ ثنائی‘‘ میں حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کی ردقادیانیت پر رسائل کی تعداد چھتیس چھتیس بیان کی ہے۔
البتہ حضرت مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے تفسیر ثنائی‘ تاریخ مرزا اور تفسیر باالرائے‘ کو شامل کرکے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ جبکہ حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدوریؒ نے ان تینوں کی بجائے آفتہ اﷲ‘ رسائل اعجازیہ‘ تحفہ مرزائیہ کے اضافہ سے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ مگر ہماری رائے میں تفسیر ثنائی کو ردقادیانیت کی فہرست میں شامل کرنا ٹھیک نہیں۔ یہ حضرت مولانا مبارک پوری کا سہو ہے۔ جبکہ رسائل اعجازیہ یہ کتاب مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کی نہیں۔ یہ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کی ہے۔ اس کا اصل نام ’’حقیقت رسائل اعجازیہ‘‘ ہے جسے احتساب قادیانیت ج۷ ص۵۷۳تاص۶۳۴ میں شائع کرچکے ہیں۔ اسے حضرت مولانا امرتسریؒ کے رسائل میں شامل کرنا حضرت مولانا عبدالمجیدؒ کا سہو ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا عبدالمجید سوہدرویؒ نے تحفہ احمدیہ اور تحفہ مرزائیہ علیحدہ علیحدہ شمار کی ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بھی ان کا سہو ہے۔ آفتہ اﷲ کی نشان دہی حضرت مولانا مبارک پوری نے نہیں کی۔ اس لئے بجائے تفسیر نثائی کے رسالہ آفتہ اﷲ کو حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کے رسائل ردقادیانیت میں شمار کیا جائے۔ تو پھر حضرت مولانا مبارک پوری کی فہرست اور حضرت مولانا عبدالمجیدؒ کی مرتب کردہ فہرست کی تعداد چھتیس چھتیس رہے گی۔ لیکن دونوں حضرات سے ایک یہ سہو ہوا کہ ’’عشرہ کاملہ‘‘ کا نام اخبار اہل حدیث امرتسر میں دیکھ کر اسے حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کی تصنیف قرار دے ڈالا۔ حالانکہ یہ حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالویؒ کی تصنیف ہے۔ اور پھر لطف یہ کہ دونوں