بسم اﷲ الرحمن الرحیم!

ختم نبوت
تمہید
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے تمام فرقوں کا متفقہ عقیدہ ہے جس کے متعلق تیرہ سو سال سے کبھی بھی اختلاف آراء نہیں ہوا۔ جھوٹے مدعیان نبوت ضرور پیدا ہوتے رہے لیکن امت مرحومہ نے متفق اللسان ہوکر ان کو خارج از دائرہ اسلام قرار دیا اور اس طرح گلزار اسلام کو پژمردہ ہونے سے محفوظ رکھا۔
مسلمانوں میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے۔ مثلاً جبریہ‘ قدریہ‘ مرجیہ‘ معتزلہ‘ شیعہ‘ تفضیلیہ‘مقلد‘ غیر مقلد‘ اہل قرآن‘ اہل حدیث وغیرہ اور ان میں زبردست مناظرے‘ مباحثے اور مجادلے بھی برپا ہوئے لیکن آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے میں کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ سب نے خاتم النبیین کے معنی یہی کئے کہ :
’’لانبی بعدہ۰‘‘{آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔}
فی الجملہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور مسلمانوں نے ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید الٰہی کے بعد اس عقیدہ کے متعلق بہت کچھ غیرت ایمانی اور جوش مذہبی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات معمولی سا غور وفکر کرنے سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ اگر توحید الٰہی کا عقیدہ بمنزلہ بنیاد ہے تو ختم نبوت کا عقیدہ بمنزلہ عمارت ہے اور ظاہر ہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی انبیاء کا سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کا قصر رفیع کبھی کا منہدم ہوگیا ہوتا۔ اگر مسلمانوں نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کو آئندہ انبیاء سے کوئی عداوت ہے۔ بلکہ وہ اس لئے اس عقیدہ پر مصر ہیں کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی کسی نبی کی ضرورت باقی ہے تو پھر آنحضرتﷺ کی وہ خصوصیت جو آپﷺ کو جمیع انبیاء سے ممتاز کرتی ہے باطل ہوجائے گی۔جو شخص چاہے یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں لیکن پھر وہ دائرہ اسلام سے یکسر اور مطلق خارج ہوجائے گا۔ اسلام سے اسے کوئی علاقہ نہ ہوگا۔
اسی لئے علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
’’اسلام نسلی خیال کو کلیتہً ملیا میٹ کرکے اپنی بنیادیں صرف مذہبی خیال پر استوار کرتا ہے۔ ہر مسلمان اس مذہبی تحریک کو جو اسلام ہی کی آغوش میں پل کر جوان ہوئی ہو اور اس کے باوجود اپنی بنیاد کسی نئی نبوت پر رکھنے کی مدعی ہو اور تمام مسلمانوں کو جو اس تحریک کو اور اس کے مفروضہ الہامات کی صداقت کو قبول نہ کریں کافر قرار دے رہی ہو اسلام کی وحدت کے لئے ایک زبردست خطرہ سمجھنے پر مجبور ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ نوع انسانی کی ثقاہت کی تاریخ میں غالباً سب سے پہلا اچھوتا عقیدہ ہے…… اسلام جو نوع انسانی کی مختلف اقوام کو ایک سلک میں