عقیدہ ختم نبوت اور قران مجید کا اسلوب بیان نمبر۱

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۰ اما بعد!

قرآن مجید نے جہاں خدا تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کی جزو لازم ٹھہرایا ۔ وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کا اقرار کرنا بھی ایک اہم جزو قرار دیا ہے۔ اور انبیاء کرام کی نبوتوں کو ماننا اور ان پرعقیدہ رکھنا ویسے ہی اہم اور لازمی ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی توحیدپر۔لیکن قرآن مجید کو اول سے آخر تک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کا اقرار کرایا گیا ہو اور جس جگہ کسی وحی کو ہمارے لئے ماننا لازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت ووحی کا ہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو اور پھر اس پر خدا کی وحی نازل ہو کہیں کسی جگہ پر اس کا ذکر تک نہیں ۔ نہ اشارۃً نہ کنایۃً‘ حالانکہ پہلے انبیاء کی نسبت آنحضرت ﷺ کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا مقصود ہوتا تو اس کا ذکرزیادہ لازمی تھا اور اس پر تنبیہ کرنا از حد ضروری تھا۔ کیونکہ پہلے انبیاء کرام اور ان کی وحی تو گزر چکی۔ امت مرحومہ کو تو سابقہ پڑنا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کی نبوتوں سے۔ مگر ان کا نام ونشان تک نہ ہوتا۔ بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں میں بیان فرمانا صاف اور روشن دلیل ہے۔ اس بات کی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخصیت کو نبوت یا رسالت عطا نہ کی جائے گی۔ مندرجہ ذیل آیات پر غور فرمائیے۔
(۱)… ’’ یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یؤقنون۰بقرہ ۴‘‘{ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہو تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔}
(۲)… ’’ یا اھل الکتاب ھل تنقمون منا الا ان آمنا باﷲ وما انزل الینا وما انزل من قبلک۰ مائدہ ۵۹‘‘{اے کتاب والو! کیا ضدہے کہ تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہوچکا پہلے۔}
(۳)… ’’ لکن الراسخون فی العلم منھم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک۰ نساء ۱۶۲‘‘{ لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے ‘ سو مانتے ہیں اس کو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے۔}
(۴)… ’’ یا ایھا الذین آمنوا آمنوا باﷲ ورسولہ والکتاب الذی نزل علیٰ رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل ۰نساء ۱۳۶‘‘{اے ایمان والو! یقین لائو اﷲ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے۔}
(۵)… ’’الم ترالی الذین یزعمون انھم آمنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک۰ نساء ۶۰‘‘{کیا تونے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اترا تیری طرف اور جو اترا تجھ سے پہلے۔}
(۶)… ’’ ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین۰ زمر۶۵‘‘{ اور حکم ہوچکا ہے تجھ کو اور تجھ سے اگلوں کو کہ اگر تونے شریک مان لیا تو اکارت جائیں گے تیرے عمل اور تو ہوگا ٹوٹے میں پڑا۔}
(۷)… ’’ کذالک یوحی الیک والی الذین من قبلک اﷲ العزیز الحکیم۰ شوریٰ ۳ ‘‘{اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف اﷲ زبر دست حکمتوں والا۔}
مندرجہ بالا تمام آیات خدا تعالیٰ نے ہمیں صرف ان کتابوں ‘ الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم سے صرف انہی انبیاء کو ماننے کا تقاضا کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور بعد میں کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔