جائے، جس میں سے نمبر ایک سنت یہ ہے کہ جب اُوپر چڑھیے تو اللہ اکبر کہیے۔ جب نیچے اتریے تو سبحان اللہ کہیے، چاہے مسجد کی سیڑھی ہویا ہوائی جہاز یا موٹر، جب چڑھائی پر چڑھے تو اس وقت اللہ اکبر کہا کرو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بخاری شریف کی روایت ہے اِذَاصَعِدْنَا کَبَّرْنَا ہم لوگ جب اُوپر چڑھتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے وَاِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا3؎ اور جب نیچے اترتے تھے تو سبحان اللہ پڑھتے تھے۔ ملّا علی قاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ بلندی پر چڑھنے سے انسان کو خیال آتا ہے کہ میں بہت بلند ہوگیا۔ شریعت نے یہ سکھادیا کہ بلندی پر چڑھو تو اپنی بڑائی کی نفی کردو کہ اللہ اکبر، اے اللہ! آپ بڑے ہیں ہم بڑے نہیں ہیں، ہم جو نیچے تھے وہی یہاں بھی ہیں، نیچے بھی بندے تھے، اب بھی بندے ہیں، بلندی تو بس آپ ہی کو زیبا ہے۔ اور جب نیچے اُترو تو کہو سبحان اللہ۔ اس میں یہ راز ہے کہ ہم نیچے ہورہے ہیں، مگر اے اللہ! آپ نیچے ہونے سے پاک ہیں۔
وضو کی مسنون دعا اور اس کی حکمت
معارف الحدیث کتاب الوضوء میں اور مجمع الزوائد میں یہ حدیث ہے کہ جو وضو سے پہلے یہ دعا پڑھ لے، بِسْمِ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ تو جب تک وضو رہے گا فرشتے ثواب لکھتے رہیں گے، چاہے ناشتہ کررہا ہو یا بیوی سے بات کررہا ہو۔ تو دو سنتیں ہوگئیں۔ اور تیسری سنت یہ ہے کہ وضو کے درمیان جو دعا ثابت ہے اس کو پڑھو۔ مولانا لوگوں کی بنائی ہوئی دعائیں پڑھنے والے حدیث کی دعا کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ یہ بات میرے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم نے بتائی کہ ہر وضو کے وقت میں اگر غیر مسنون دعائیں پڑھیں گے تو حدیث کی دعا کیسے پڑھ سکیں گے؟ لہٰذا جو دعا سنت ہے وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ
اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما اور میرے مکان کو وسیع کردے، اور (چوں کہ بڑا
_____________________________________________
صحیح البخاری:420/1(3006)، باب التسبیح اذاھبط وادیا،المکتبۃ المظہریۃ
کنزالعمال:180/2(3633) ، فصل فی جوامع الادعیۃ،مؤسسۃ الرسالۃ