سیکھنے والا اگر بادام اور دودھ نہیں پیے گا تو داؤ پیچ تو جان جائے گا، مگر سوکھا ہی رہے گا۔ مقابلے کے وقت دُشمن اس کو پٹخ دے گا لہٰذا صحبتِ اہل اللہ کے ساتھ دوام ذکر اللہ بھی کماً اور کیفاً ضروری ہے۔ ورنہ روح میں پوری طاقت نہیں آئے گی اور نفس و شیطان اس کو پٹخ دیں گے یعنی مغلوب ہوکر یہ گناہ کر بیٹھے گا۔ اللہ کے نام میں یہ تاثیر ہے کہ بندہ ان کا ہوتا چلا جاتا ہے۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ذکر ذاکر کو مذکور تک پہنچادیتا ہے۔
اس کےمتعلق ایک مضمون کل باقی رہ گیا تھا کہ جیسے دنیاوی پہلوانی میں پہلوان اُستاد اپنے شاگردوں سے کہتا ہے کہ دیکھو میرے اکھاڑے میں آکر مجھ سے داؤ پیچ سیکھنا اور گھر جاکر بادام اور دودھ پینا لیکن اس کے ساتھ ذرا لنگوٹی مضبوط رکھنا، کوئی بدپرہیزی نہ کرنا۔ اسی طرح اللہ والے بھی یہی فرماتے ہیں، قرآنِ پاک اور حدیثِ پاک کے ارشادات ہی وہ سناتے ہیں کہ تقویٰ کے لیے جتنا ضروری اللہ والوں کی صحبت ہے، جتنا ضروری ذکر اللہ کا دوام ہے، اس سے زیادہ ضروری ہے کہ گناہوں سے بچے۔ گناہ زہر ہے زہر، لہٰذا خوب سمجھ لیجیے کہ اس سے پرہیز کتنا ضروری ہے۔ اگر لاہور میں محمد علی کلے آجائے اور باکسنگ کا اعلان ہو اور اس کو اکیاون انڈے کھلادیے اور پچیس مرغیوں کا سوپ پلادیا لیکن ذرا سا زہر بھی کھلادیا تو وہ جیت نہیں سکتا۔ جو لوگ صحبتِ اہل اللہ اور التزام ذکر اللہ کے ساتھ گناہوں کا زہر بھی کھارہے ہیں وہ نفس و شیطان کے مقابلے میں بازی نہیں پارہے ہیں، مغلوب ہیں، جیت نہیں پارہے ہیں، ان کے قلب کو آج تک نسبت مع اللہ حاصل نہ ہوسکی کیوں کہ نافرمانی کا زہر ایمان کو کمزور کردیتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جیسے کوئی ہرا بھرا درخت ہو اور کوئی وہاں آگ جلاکر سینک لے تو اس کی ساری سبزی و شادابی ختم ہوجاتی ہے، پتیاں جھلس جاتی ہیں، پھر دوبارہ ہرا بھرا بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ گناہِ کبیرہ سے ایمان کے درخت کا یہی حال ہوتا ہے، قلب ویران ہوجاتا ہے، اِلّا یہ کہ توبہ کرلے اور آہ و فغاں کرکے اللہ کو راضی کرلے لیکن گناہ چھوڑنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو انسان کے نفس کو تزکیہ اور ترکِ معصیت کی توفیق نہیں ہوتی۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتے ہیں: