ناجائز ہے۲؂۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
حررہٗ العبد محمود غفرلہٗ ۹؍۱۰؍ ۹۰ھ؁
ایصالِ ثواب وغیرہ کے ختم قرآن پرشیرینی
سوال :- یہاں کا رواج ہے لوگ علماء ، حفاظ اور کچھ علومِ دین جاننے والے لوگوں سے

۱؂ للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ اوصومًا اوصدقۃ اوغیرہا۔ شامی کراچی ص:۲۴۳، ج:۲، باب صلوۃ الجنازۃ، مطلب فی القرائۃ للمیت، بحر کوئٹہ ص۳/۵۹، باب الحج عن الغیر، بدائع زکریا ص۲/۴۵۴، بیان شرائط النیابۃ فی الحج۔
۲؂ مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِےْنَ اٰمَنُوْآ أَنْ ےَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِےْنَ الآیۃ:۱۱۳؍ سورۃ التوبۃ،
ترجمہ :- پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کیلئے مغفرت کی دعا کرمانگیں۔
والحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر۱ھـ درمختار کراچی۔ ص: ۵۲۲، ج:۱، باب صفۃ الصلوۃ، مطلب فی خلف الوعید۔ ہندیہ کوئٹہ ص۵/۳۴۸، کتاب الکراہیۃ، الباب الرابع عشر فی اہل الذمۃ۔
ختم قرآن، ختم خواجگان یا اس کے علاوہ اور کسی قسم کا ختم کراتے ہیں اورایصالِ ثواب یا اپنے مقاصد کی دعائیں کراتے ہیں، پڑھنے والوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں، اور کچھ روپئے پیسے بھی دیتے ہیں، یہ رواج شرعاً کیسا ہے؟ روپئے پیسے لینا دینا کیسا ہے؟ اہل استطاعت اس قسم کے پیسے لے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب حامداً ومصلیاً
ایصالِ ثواب کیلئے قرآن پاک ختم کراکے بطور معاوضہ کھانا کھلانا درست نہیں، اس سے ثواب نہیں ہوتا، بلکہ گناہ ہوتا ہے، علامہ شامیؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔ اہلِ استطاعت اور فقراء کسی کو بھی ایسا کھانا کھلانا اورپیسے لینا درست نہیں۱؂۔ مگردیگر مقاصد مثلاً مقدمات کی کامیابی کیلئے اگرختم کرایا جائے اور کھانا کھلایا جائے یا پیسے دیئے جائیں تو یہ درست ہے، یہاں ختم سے