مقصود تحصیلِ ثواب نہیں بلکہ دوسرا کام مقصود ہے۲؂۔ واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
حررہٗ العبد محمود عفی عنہ
دارالعلوم دیوبند ۲۱؍ ۱۰؍ ۸۵ھ؁

۱؂ قال: تاج الشریعۃ فی شرح الہدایۃ: ان القرآن بالاجرۃ لایستحق الثواب لاللمیت ولا للقاری وقال العینی فی شرح الہدایۃ: ویمنع القاری للدنیا والاٰخذ والمعطی اثمان ۱ھـ ردالمحتار نعمانیہ ص:۳۵، ج:۵، کتاب الاجارہ۔ مطلب تحریرمہم فی عدم جواز الاستیجار علی التلاوۃ الخ، منحۃ الخالق علی البحر ص۵/۲۲۸، کتاب الوقف، مطبوعہ کوئٹہ، شرح فقہ اکبر ص۱۶۰، قراء ۃ القرآن واہداؤہا للمیت الخ، مطبوعہ مجتبائی دہلی۔
۲؂ وما استدل بہ بعض الحشین علی الجواز بحدیث البخاری فی اللدیغ فہو خطاء لان المتقدمین المانعین الاستیجار مطلقا جوز الرقیۃ بالاجرۃ ولو بالقرآن کما ذکرہ الطحطاوی لانہا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی (شامی زکریا ص۹/۷۸، باب الاجارۃ الفاسدۃ، مطلب تحریر مہم فی عدم جواز الاستیجار علی التلاوۃ الخ، رسائل ابن عابدین، ص۱/۱۵۷، الرسالۃ السابعۃ، شفاء العلیل وبل الغلیل، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور۔
ایصالِ ثواب پراجرت
سوال :- زید نے کسی کو ایک ختم قرآن پڑھ دیا اوراس شخص پر دعویٰ کرتا ہے، کہ اس ختم قرآن کے عوض میں ہمیں گیارہ روپے دو اس طرح لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً ومصلیاً
یہ لینا بھی ناجائز ہے اوردینا بھی ناجائز لینے والا اوردینے والا ہردوگنہ گار ہوں گے: قال تاج الشریعۃ فی شرح الہدایۃ ان القراٰن بالاجرۃ لا یستحق الثواب لا للمیت ولاللقاری وقال العینی فی شرح الہدایۃ ویمنع القاری للدنیا والاٰخذ و