المعطی اٰثمان۱ھـ ردالمحتا۱؂ر ص:۳۵، ج:۵، نعمانیہ۔ کتاب الاجارۃ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
حررہٗ العبد محمود غفرلہٗ دارالعلوم دیوبند
ایصالِ ثواب کے خلاف استدلال
سوال :- (۱) مذہب اسلام نے ایصال ثواب کو جائز رکھا یا نہیں؟ اگر جائز ہے، اور ایک سورت کو پڑھ کر بہت سے مردوں کو بخشے اس سورت کا ثواب تمام مردوں کو برابرایک سورت کا ملے گا یا بقدر حصہ؟
(۲) ایک شخص ایصال ثواب کو بدعت کہتا ہے اور استدلال میں مندرجہ ذیل احادیث وآیات پیش کرتا ہے آیا یہ صحیح ہے؟
(۱) کبھی حضور ا نے ایک آیت کا بھی ثواب کسی کو نہیں بخشا۔

۱؂ شامی زکریا ص:۷۷، ج:۹، باب الاجارۃ الفاسدۃ، مطلب تحریر مہم فی عدم جواز الاستئجار علی التلاوۃ والتھلیل۔ شرح فقہ اکبر ص۱۶۰، قراء ۃ القرآن واہداؤہا للمیت، مطبوعہ مجتبائی دہلی، منحۃ الخالق علی البحر کوئٹہ ص۵/۲۲۸، کتاب الوقف۔
(۲) کسی صحابی نے کبھی بھی ایک آیت پڑھ کر کسی کو اس کا ثواب نہیں بخشا۔
(۳) کبھی کسی پیغمبر نے بھی ایک آیت پڑھ کر کسی کو اس کا ثواب نہیں بخشا۔
(۴) تمام پیغمبروں نے ہمیشہ گناہگاروں کیلئے دعاء مغفرت کی۔
(۵) حضور ا نے بھی ہمیشہ مسلمانوں کیلئے دعاءِ مغفرت کی۔
(۶) قرآن میں بہت سے مقامات پر صاف لفظوں میں لکھ دیاگیا ہے کہ ایک کا ثواب دوسرے کو نہیں مل سکتا مثلاً: ’’وان لیس للانسان الاماسعٰی ‘‘(النجم)
(۲) وان احسنتم احسنتم لانفسکم (الآیۃ)
(۳) من اہتدی فانما یہتدی لنفسہ ۔(الآیۃ) (بنی اسرائیل)