(۴) ولا تزر وازرۃ وزر اخریٰ (الاایۃ) (فاطر)
الجواب حامداً ومصلیاً
(۱) ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلٰوۃ اوصومًا او صدقۃ او غیرہا عند اہل السنۃ والجماعۃ ۱ھـ ہدایۃ۱؂ ص:۲۷۶، ج:۱۔ ویصح اہداء نصف الثواب وربعہ کما نص علیہ احمدؒ ولا مانع منہ ویوضحہ انہ لواہدیٰ الکل الٰی اربعۃ یحصل لکل منہم ربعہ فکذا لو اہدیٰ الربع لواحد وابقی الباقی لنفسہ، لٰکن سئل ابن حجر المکیؒ عما لو قرأ لاہل المقبرۃ الفاتحۃ ہل یقسم الثواب بینہم اویصل لکل منہم مثل ثواب ذٰلک کاملا؟ فاجاب: بانہ افتی جمع بالثانی ہو اللائق بسعۃ الفضل ۱ھـ شامی۲؂ ص:۶۰۵، ج۱، کتاب الجنائز۔

۱؂ ہدایہ ص۱/۲۹۶، باب الحج عن الغیر، مطبوعہ تھانوی دیوبند، بحر کوئٹہ ص۳/۵۹، باب الحج عن الغیر، بدائع زکریا ص۲/۴۵۴، کتاب الحج، بیان شرائط النیابۃ فی الحج۔
۲؂ شامی زکریا ص۳/۱۵۲، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی القراء ۃ للمیت الخ، فتاوی کبری لابن حجر ص۱/۴۲۲، باب الجنائز، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت، کتاب الروح ص۱۷۴، المسئالۃالسادسۃ عشر ہل تنتفع ارواح الموتی الخ فصل واما قولکم لو ساغ ذلک لساغ الخ، مطبوعہ فاروقیہ پشاور۔
عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ ایصالِ ثواب جائز ہے اور ایک سورۃ کا ثواب چند مردوں کو بخشا جائے، تو اس میں دونوں قول ہیں باری تعالیٰ کے فضل کے لائق یہ ہے کہ سب کو پوری پوری سورت کا ثواب پہونچے۔
(۲) ایصالِ ثواب بدعت نہیں بلکہ خیر القرون سے اس پر عمل جاری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو اس کی تلقین فرمائی ہے، اورصحابہ کرامؓ نے نیز بعد کے حضرات نے اپنے اعزہ کیلئے ایصال ثواب کیا ہے، اس مسئلہ میں اتنی وسعت سے روایات ہیں کہ ان کا انکار دشوار ہے، خود نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے امت