کی طرف سے قربانی کی ہے، صوم صلوٰۃ، صدقہ ، حج، قرأۃ، اضحیہ، سب ہی کا احادیث میں ثواب پہنچانا ثابت ہے، ہدایہ میں ہے: لما روی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ ضحٰی بکبشین املحین احدہما عن نفسہ والاٰخر عن امتہ ممن اقر بوحدانیۃ اللّٰہ تعالٰی وشہد لہ بالبلاغ۱؂ ۱ھـ اس حدیث کی تخریج زیلعی۲؂ میں سات صحابہ ؓ سے کی گئی ہے۔ شیخ ابن ہمامؒ۳؂ نے اس کو حدیث مشہور قرار دے کر فرمایا ہے، یجوز تقیید الکتاب بہ نیز دارقطنی کی روایت ہے: ان رجلاً سألہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال کان لی ابوان ابرہما حال حیاتہما فکیف لی ببرہما بعد موتہما فقال صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان من البر بعد الموت ان تصلی لہما مع صلاتک وتصوم لہما مع صیامک۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: من مر علی المقابر وقرأ قل ہو اللّٰہ احد۔ احدیٰ عشر مرۃ ثم وہب اجرہا للاموات اعطی من الاجربعدد الاموات۴؂۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دریافت

۱؂ ہدایہ ص:۲۷۶، ج:۱، باب الحج عن الغیر، مطبوعہ مجتبائی دہلی۔
۲؂ راجع نصب الرایۃ للزیلعی ص۳/۱۵۱، باب الحج عن الغیر، طبع المجلس العلمی ڈھابیل۔
۳؂ فتح القدیر ص:۱۴۳، ج:۳، باب الحج عن الغیر، مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
۴؂ مراقی مع الطحطاوی ص۵۱۴، فصل فی زیارۃ القبور، مصری، الدر مع الشامی زکریا ص۳/۱۵۴، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی اہداء ثواب القراء ۃ الخ، اتحاف ص۱۰/۳۷۱، کتاب ذکر الموت، بیان زیارۃ القبور، مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
فرمایا یا رسول اللہا: انا نتصدق عن موتانا ونحج عنہم وندعولہم فہل یصل ذٰلک الیہم؟ قال نعم: انہ لیصل الیہم وانہم لیفرحون بہ کما یفرح احدکم بالطبق اذا اہدی الیہ۱ھـ۔
ان سب کو نیز دیگر احادیث وآثار کو نقل کر کے فتح القد۱؂یر ص:۳۰۹، ج:۲ باب الحج عن الغیرمیں لکھا ہے: فہٰدہ الاٰثار وماقبلہا وما فی السنۃ