ایضًا من نحوہا عن کثیرقد ترکناہ لحال الطول یبلغ القدر المشترک بین الکل وہو ان من جعل شیءًا من الصالحات لغیرہ نفعہ اللّٰہ تعالیٰ بہ مبلغ التواتر وکذا ما فی کتاب اللّٰہ تعالیٰ من الامر بالدعاء للوالدین فی قولہ تعالٰی وقل رب ارحمہما کما ربیانی صغیراً، ومن الاخبار باستغفار الملائکۃ للمومنین، قال تعالٰی: والملائکۃ یسبحون بحمدربہم ویستعفرون لمن فی الارض وقال تعالٰی فی اٰیۃ اخریٰ: الذین یحملون العرش الٰی قولہ وقہم السےٰات قطعی فی حصول الانتفاع بعمل الغیرفیخالف ظاہرا لاٰیۃ التی استدلوا بہا (ای المعتزلہ وہی وان لیس للانسان الاماسعٰی) اذ ظاہرہا انہ لا ینفع استغفار احد لا حد بوجہ من الوجوہ لانہ لیس من سعیہ فلا یکون لہ منہ شییٔ فقطعنا بانتفاء ارادۃ ظاہرہا علی صرافتہ فتقید بما لم یہبہ العامل۔
آیت مذکورہ سے استدلال کاجواب بھی واضح ہوگیا، حافظ عینی نے شرح ہدایہ۲؂۔ میں اور زیلعی نے شرح کنز۳؂ میں اور طحطاوی نے شرح مراقی الفلا۴؂ح میں معتزلہ کی اس دلیل کے آٹھ

۱؂ فتح القدیر ص:۱۴۳،۱۴۴، ج:۳، باب الحج عن الغیر، مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
۲؂ عینی شرح ہدایہ ص:۴۲۴، ج:۴، مطبوعہ دارالفکر بیروت، باب الحج عن الغیر۔
۳؂ تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق ص:۸۴، ج:۲، باب الحج عن الغیر۔ مطبوعہ مکبتہ امدادیہ پاکستان۔
۴؂ والجواب عنہ من ثمانیۃ اوجہ الاول انہا منسوخۃ الحکم الی قولہ الثامن ان الحصر قد یکون فی معظم المقصود الخ۔ طحطاوی شرح مراقی الفلاح ص:۵۱۴، فصل زیارۃ القبور۔
جوابات دئیے ہیں۔ ابن قیم ؒ نے تو کتاب الروح گویا کہ اس قسم کے مسائل کے لئے ہی تصنیف کی ہے اور ہر عنوان پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
آثار السنن۱؂ میں مستقل باب قرأۃ القرآن للمیت منعقد کیا گیا ہے۔ دوسری اور تیسری اور چوتھی آیت سے جواستدلال کیاگیا ہے، وہ بالکل بے محل