عزت وذلت کامعیار ان کے نزدیک نظر اغیار ہے نہ کہ نظر حبیب پروردگار اور’’ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للّٰہ جمیعاً الایۃ۱؂ ‘‘ کو فراموش کردیتے ہیں، اورسورۂ منافقون کاواقعہ ’’لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الا عزمنہا الاذل وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین الایۃ۲؂ ‘‘ کی طرف گاہے التفات نہیں ہوتا، پھرمعاملہ مذکورہ کی حرمت وقباحت ہراذہان سے ختم ہوجاتی ہے، حرام چیز کی قباحت کا قلوب سے نکل جانا اتنابڑا نقصان ہے کہ جس کی مکافات دشو ار ہے ،’’کلّا بل ران علیٰ قلوبہم ماکانوا یکسبون ۳؂ الایۃ‘‘ علاوہ ازیں ایسا بھی سننے اوردیکھنے میں آیاہے،کہ قرض کی مقررہ قسطیں کسی غفلت یاحادثہ کی وجہ وقت پرادا نہیں کی گئیں توبنی ہوئی سب عمارت ہی ضبط کرلی گئی ،اس کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
حررہ العبد محمودغفرلہٗ دارالعلوم دیوبند
فساد معاشرہ کے وقت علماء کی ذمہ داری
سوال:۔ آ ج کے معاشرہ میں بہت سی ایسی چیزیں ضروریات میں شامل ہیں کہ جن کو شرعاً ضروریات میں شامل کرنا تامل ہوتاہے،مگررواج میں ضروریات میں داخل ہیں،مثلاً لباس کے مسئلہ میں شرعاً ستر پوشی کی حدتک ضرورت ہے ،اس میں لباس کی وضع قطع وغیرہ کو کوئی دخل نہیں مگر رواج میں اپنے وقار کے مطابق کپڑا پہنناپڑتاہے،اسی طرح طعام وغیرہ اورزندگی کی دوسری ضروریات میں کہ اس کے ملحوظ رکھنے پرانسان مجبور ہوتاہے،اوراگر ایسا نہ کرے توذلیل اورحقیر کہلائے قرون اولیٰ کے لوگوں کی معاشرت اگرعقلاً محال نہیں تو عملاً ناممکن ضرور ہے، دیندارلوگوں میں بھی یہ چیزضروری ہے ،اور روز مرہ کے شواہد ثبوت ہیں ،علاوہ ازیں لباس طعام وغیرہ کے سلسلہ میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جن کو آج کل قویٰ برداشت نہیں کرسکتے ، جدید معاشرت اورتعلیم سے دور رہتے ہیں،مسلمان اچھوت ہوکر رہ جائیں گے،اورآج کل جدید تعلیم کے لئے روپئے کی ضرورت