063:007
هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ
ترجمہ:
یہ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجاءٰں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے زمین کے اور آسمان کے لیکن منافقین نہیں سمجھتے
تفسیر:
٩۔ ابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ یہ آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ من حولہ۔
منافقین کو قتل نہ کرنے کی حکمت
١١۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں۔ اگر تم ان پر خرچ نہ کروگے تو وہ بھاگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیجرجن الاعز منہا الاذل۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات اس بڑے منافق نے کہی ان دو آدمیوں کے بارے میں جو آپس میں لڑ پڑے ایک ان میں سے غفاری تھا اور دوسرا جہنی تھا غفاری جہنی پر غالب ہوگیا جہینہ اور انصار کے درمیان دوستی تھی۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا اور وہ عبداللہ بن ابی تھا۔ اے قبیلہ اوس اور خزرج والو ! اپنے ساتھی اور اپنے حلیف کی مدد کے لیے آؤ پھر کہا اللہ کی قسم ! ہماری اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک کہنے والے نے کہا۔ اپنے کتے کو خوب موٹا تازہ کر تاکہ تجھ کو کھاجائے۔ اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو ضرور نکال دیں گے۔ یہ سن کر ان میں سے بعض نے اس کی یہ بات اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچائی۔ عمر (رض) نے کہا اے اللہ کے نبی معاذ کو حکم دیجیے کہ وہ اس منافق کی گردن ماردے۔ آپ نے فرمایا کیا لوگ یہ باتیں نہ کریں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اس وقت منافقین میں سے دو سے زائد آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے تو عمر (رض) نے پوچھا کیا وہ نماز پڑھتا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے جواب دیا۔ ہاں پڑھتا ہے۔ اور اس کی نماز میں خیر نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا۔ مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا۔
١٢۔ ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ منافقوں نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ اصحاب کرام (رض) کو مت کھلاؤ یہاں تک کہ جب ان کو بھوک پہنچے گی تو وہ اپنے نبی کو چھوڑ دیں گے اسی کو فرمایا آیت لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعذ منہا الذال۔ اور یہ بات عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اور منافقین میں سے کچھ اور لوگوں نے کہی تھی۔
١٣۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا کہ ہم ایک غزوہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ سفیان (رض) نے کہا کہ ان کا گمان ہے کہ وہ غزوۂ بنی المصطلق تھا۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پشت پر ہاتھ یا لات ماری۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اس بات کو سنا تو فرمایا جاہلیت کی پکار اور آواز کیا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پشت پر لات ماردی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس عصبیت کی پکار کو چھوڑ دو ۔ کیونکہ یہ بوبودار ہے۔ اس بات کو عبداللہ بن ابی نے سن لیا اور اس نے کہا کہ انہوں نے اس طرح کیا کہ مہاجر نے انصار کو مارا ہے۔ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن ماردوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو چھوڑدیا تاکہ لوگ ایسی اتیں نہ کریں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کو قتل کردیا ہے۔ ترمذی (رح) نے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ اس کے بیٹے عبداللہ نے کہا اللہ کی قسم ! تو لوٹ کر نہیں جائے گا۔ یہاں تک کہ تو اس بات کا اقرر کر کہ تو ہی ذلیل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزت والے ہیں تو اس نے ایسے ہی کہا۔
١٤۔ عکرمہ (رض) سے روایت کیا کہ انصار کے ایک غلام اور بنو غفار کے ایک غلام کے درمیان راستے میں کچھ گفتگو (یعنی تلخی) ہوگئی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا مبارک ہو ! تمہارے لیے قوت ہے۔ بڑی آسانی کے ساتھ ہے۔ بلامشقت تم نے مزنیہ اور جہینہ میں سے طاقتور لمبی لمبی پنڈلیوں کو جمع کرلیا ہے اور انہوں نے تم کو تمہارے پھلوں پر غالب کردیا ہے اگر ہم مدینہ منورہ لوٹ گئے تو ہم عزت والے لوگ ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکالیں گے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قمیص میں کفن
١٥۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رض) سے روایت کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کو موت حاضر ہوئی (یعنی موت کا وقت قریب آپہنچا) تو ابن عباس (رض) نے فرمایا تو اس کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے اور دونوں کے درمیان آپس میں گفتگو ہوئی تو عبداللہ بن ابی نے کہا جو کچھ آپ کہتے ہیں میں اسے سمجھتا ہوں۔ لیکن آج کے دن مجھ پر احسان فرمائیے۔ اپنی اس قمیص مبارک سے مجھے کفن دیجیے اور مجھ پر نماز بھی پڑھیے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص کے اتھ اس کو کفن دیا اور اس پر نماز بھی پڑھی۔ اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں کہ وہ کونسی نماز تھی۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا سوائے اس کے کہ حدیبیہ کے دن اس نے اچھی بات کہی تھی۔ عکرمہ (رض) سے پوچھا گیا وہ بات کیا تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قریش نے اس سے کہا تھا اے ابو حباب ! کہ ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا تھا لیکن ہم تجھے اجازت دیتے ہی تو اس نے کہا نہیں میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا تھا لیکن ہم تجھے اجازت دیتے ہیں۔ تو اس نے کہا نہیں میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ عکرمہ (رض) نے کہا کہ صحابہ (رض) جب مدینہ پہنچے تو اس کے بیٹے نے تلوار اٹھائی اور اپنے والد سے کہا تو گمان کرتا ہے کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو ہم عزت والے اس میں سے ذلت والوں کو ضرور نکال دیں گے۔ اللہ کی قسم ! تو اس میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت نہ دیں۔
١٦۔ حمید نے اپنی مسند میں ابوہارون المدنی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے اپنے والد سے کہا اللہ کی قسم ! تو کبھی مدینہ میں داخل نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ تو کہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ عزت والے ہیں۔ اور میں ذلیل ہوں۔
١٧۔ طبرانی نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی مصطلق سے واپس تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ کھڑے ہوگئے اور اپنے باپ پر تلوار سونت لی اور کہا مجھ پر اللہ کی قسم ہے کہ میں اپنی تلوار کو نیام میں نہیں ڈالوں گا یہاں تک کہ تو یہ نہ کہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزت والے ہی اور میں ذلیل ہوں۔ اس نے کہا تیری ہلاکت ہو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزت والے ہیں اور میں ذلیل ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ نے اس پر تعجب فرمایا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔
١٨۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب صحابہ کرام (رض) مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ (رض) نے اپنے باپ پر تلوار سونت لی۔ اور کہا میں ضرور تجھ کو قتل کردوں گا یا تو یوں کہہ دے کہ میں ذلیل ہوں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزت والے ہیں وہ نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس نے یہ بات کہی۔
١٩۔ ابن ابی شیبہ نے عروہ بن زبیر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) غزوہ بنی المصطلق میں تھے۔ جب وہ ایک منزل پر آئے تو مہاجرین اور انصار کے غلاموں میں جھگڑا ہوگیا۔ تو مہاجرین کے غلاموں نے مہاجرین کو مدد کے لیے بلایا اور انصار کے غلاموں نے انصار کو بلایا جب یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! اگر تم ان پر خرچ نہ کرتے تو یہ آپ کے اردگرد سے بھاگ جاتے اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ تو آپ نے وہاں سے کوچ کرنے کا حکم فرمایا اور آپ نے سفر کے دوران بنو عبدالاشہل کے سواروں کو پایا تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ عبداللہ بن ابی منافق نے کیا کہا۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اس نے کیا کہا ہے تو آپ نے فرمایا اس نے کہ اللہ کی قسم ! اگر تم ان پر خرچ نہ کرتے تو وہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ جاتے اور یوں کہا اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ تو ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اس نے سچ کہا ہے اللہ کی قسم ! آپ ہی سب سے بڑھ کر عزت والے ہیں اور وہ ذلیل ہیں۔
٢٠۔ عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر کے ہمراہ ایک مقام پر تھے اسی دوران قریش کا ایک آدمی اور انصار کے ایک آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوگیا۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان بات بڑھ گئی اور معاملہ سخت ہوگیا۔ عبداللہ بن ابی کو جب یہ بات پہنچی تو وہ آواز دیتے ہوئے نکلا۔ میری قوم پر اس آدمی نے غلبہ پالیا جس کی کوئی قوم نہیں۔ یہ بات عمر بن خطاب (رض) کو پہنچی۔ انہوں نے اپنی تلوار لی۔ پھر ارادہ کرتے ہوئے نکلے۔ تاکہ اس منافق کو ماردیں پھر یہ آیت انہوں نے یاد کی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو۔ وہ لوٹ یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے آپ نے فرمایا اے عمر ! تجھ کو کیا ہوا عرض کیا تعجب ہے اس منافق کی طرف ؟ وہ کہتا ہے کہ میری قوم پر ایسے آدمی نے غلبہ پالیا ہے جس کی اپنی کوئی قوم نہیں اور کہتا ہے کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اٹھو اور لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ یہاں سے کوچ کریں انہوں نے کوچ کیا اور چل دئیے یہاں تک کہ ان کے اور مدینہ کے درمیان صرف ایک رات کا فاصلہ رہ گیا تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے جلدی کی۔ یہاں تک کہ اس نے مدینہ منورہ کے تمام راستوں پر اونٹ بٹھادئیے اور لوگ وہاں پہنچے یہاں تک کہ اس کا والد عبداللہ بن ابی بھی آگیا بیٹے نے کہا پیچھے رک جا۔ باپ نے کہا تجھ کو کیا ہوا تیری ہلاکت ہو۔ بیٹے نے کہا اللہ کی قسم تو کبھی داخل نہ ہوگا مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے۔ اور آج معلوم ہوجائے گا۔ عزت والا کون ہے اور ذلیل کون ہے چناچہ وہ واپس لوٹ آیا حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی تو ان سے شکایت کی جو اس کے بیٹے نے اس سے معاملہ کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حضرت عبداللہ کی جانب پیغام بھیجا کہ اس کا راستہ چھوڑدے یہاں تک کہ وہ داخل ہوجائے تو اس نے ایسا ہی کیا تھوڑے ہی دن گذرے تھے یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی بیمار پڑگیا۔ اور اس کا درد سخت ہوگیا۔ تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا اے میرے بیٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا اور ان کو بلا کرلے آ۔ اس کے بیٹے نے ایسا ہی کیا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے آپ سے کہا یا رسول اللہ ! عبداللہ بن ابی شدید تکلیف میں ہے۔ اس نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں آپ کے پاس حاضر ہو کر آپ کو اس کے پاس لے چلوں بلاشبہ وہ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے آپ نے اپنا جوتا مبارک پہنا اور کھڑے ہوگئے۔ اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سے ایک جماعت بھی تھی۔ یہاں تک کہ یہ سب لوگ عبداللہ کے پاس داخل ہوگئے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو اس نے اپنے اہل و عیال سے کہا مجھے بٹھا دو چناچہ انہوں نے اس کو بٹھا دیا۔ تو عبداللہ بن ابی رونے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ کے دشمن کیا اب تو گھبرا رہا ہے تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو اس لیے نہیں بلایا کہ مجھے ڈانٹیں اور جھڑکیں لیکن میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ مجھ پر رحم فرمائیں یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور فرمایا تیری حاجت کیا ہے ؟ اس نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ جب میں مرجاؤ تو میرے غسل کے وقت آپ حاضر ہوں۔ اور اپنے کپڑوں میں سے مجھے تین کپڑوں میں کفن دیں۔ اور میرے جنازہ کے ساتھ چلیں۔ اور مجھ پر نماز پڑھیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا تو بعد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ۔ ان میں سے کسی کی نماز نہ پڑھیے جب وہ مرجائے اور اس کی قبر پر بھی نہ ٹھہرئیے۔