026:210
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ
ترجمہ:
اور قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے
تفسیر:

ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔
تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک ہیں۔ روحانی مضامین اور توحید و معرفت اور ترک حب دنیا اور آخرت سے محبت اور خدا تعالیٰ سے دلی رغبت اور شہوات لذات فانیہ سے نفرت وغیرہ مضامین عالیہ قرآن مجید میں ہیں ‘ ان سے ان کو دلی نفرت ہے پھر یہ مطلب شیاطین کو اول تو معلوم ہی نہیں ان کو تو وہی شہوات و لذات کی باتیں معلوم ہیں کہ جن سے نفس خوش ہوتا اور روح پر تاریکی آتی ہے اور جو معلوم بھی ہوں تو وہ کا ہے کو ایسی باتیں تعلیم و القاء کرنے لگے جن سے ان کو دلی نفرت ہو بلکہ وما یستطیعون ان کو اس کی قدرت بھی نہیں کہ وہ کسی مقدس اور پاکبازوں کے دل تک پہنچیں اور پھر ایسی باتیں القاء کریں۔ گوہ کے کیڑے کو پھول تک کہاں رسائی ‘ خفاش کو آفتاب تک کہاں دسترس اور بالفرض وہاں تک دسترس بھی ہو تو پھر ملائِ اعلی اور خطیرۃ القدس تک کہاں رسائی کہ جہاں سے یہ مضامین عالیہ آتے ہیں ؟ اس لیے فرماتا ہے انہم عن السمع لمعزولون ترمذی نے سورة جن کی تفسیر میں ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ پہلے جن آسمان تک چڑھ جایا کرتے تھے وہاں سے کوئی بات سن آتے تھے تو ساحروں کاہنوں کو اس میں سو جھوٹ ملا کر کہہ دیا کرتے تھے مگر جب سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی کئے گئے ان کو وہاں تک جانے سے روک دیا گیا۔
جب ان کے تمام شبہات کا پورا پورا جواب دے دیا گیا اور قرآن مجید کا کلام الٰہی ہونا ثابت کردیا گیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے ان بت پرستوں کو شرک سے منع کرتا اور توحید کا حکم دیتا ہے۔ فقال فلاتدع مع اللہ الہًا اخر کہ اللہ کے ساتھ اور کسی کو خدا بنا کر نہ پکارنا اور جو ایسا کرے گا تو عذاب دیا جائے گا۔ قوم عرب بلکہ اس عہد کے تمام بنی آدم ہندو ‘ روم ‘ ایران و ترکستان والے ‘ عیسائی ‘ یہودی ایسی بلا میں مبتلا تھے اس لیے اس اصلی مقصد کا بیان کرنا مقدم ٹھہرا۔ اور اس کے بعد خاص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا وانذر عشیرتک الاقربین (١) کہ اپنے قرابت داروں کو ڈرا کہ تمہارے ان برے افعال پر یہ آفت آنے والی ہے۔ امام بخاری نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبل صفا پر چڑھ کر پکارے اور بعید کے قبائل سے شروع کیا اے بنی عدی یہاں تک کہ قریش کے تمام قبائل کا نام لیا اور وہ سب جمع ہوئے اور جو کوئی خود نہ آسکا تو اس نے اپنے کسی آدمی کو بھیج دیا پس قریش کے لوگ اور ابولہب سب آئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں تم کو خبر دوں کہ کسی وادی میں تم پر چھاپہ مارنے کو کوئی لشکر جمع ہو رہا ہے تو تم میری تصدیق کروگے ؟ انہوں نے کہا کہ بیشک کس لیے کہ ہم نے بارہا تجربہ کرلیا ہے کہ آپ نے کبھی کوئی بات جھوٹی نہیں کہی۔ تب آپ نے فرمایا میں تمہیں مطلع کرتا ہوں کہ ایک سخت عذاب آنے والا ہے تب ابولہب نے کہا ١ ؎ تیرے ہاتھ ٹوٹیں کیا اس لیے ہم کو جمع کیا تھا۔ بخاری نے ابوہریرہ (رض) سے اسی امر میں یہ بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اے قریش ! تم اپنا بندوبست آپ کرلو میں تمہارے اوپر سے خدا کا عذاب دور نہیں کرسکوں گا اے عبدمناف میں خدا کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں تیرے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ کارآمد نہ ہوں گا۔ اے صفیہ (رسول اللہ کی پھوپھی) میں تیرے لیے اللہ کے مقابلہ میں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد تو جو چاہے میرے پاس سے مال مانگ لے لیکن خدا کے مقابلہ میں میں تیرے کچھ کام نہ آؤں گا (افسوس آج ہم کو خاندانوں پر ناز ہے اس کو آخرت کا سرمایہ سمجھے بیٹھے ہیں۔ ) جس طرح نافرمان اقارب کو ڈرانے کا حکم ہوا اسی طرح اس کے مقابلہ میں ایمانداروں کے آگے جھکنے اور تواضع اور مدارات کرنے کا حکم دیا بقولہ واخفض جناحک لمن ابتعک من المؤمنین یہ دوسرا حکم تھا ایمان و اطاعت رسول کا مرتبہ کہاں تک بلند ہے کہ اپنے رسول پاک کو ان کی تواضع کا حکم دیا اسی لیے ایمانداروں سے آپ بہ تواضع پیش آتے تھے پھر فرماتا ہے اگر ڈر سنانے پر بھی اے نبی آپ کا حکم نہ مانیں تو کہہ دو کہ میں تم سے بری ہوں فان عصوک الخ اور ان کی اس مخالفت سے کچھ خوف نہ کیجئے بلکہ توکل علی العزیز الرحیم اللہ زبردست مہربان پر تو کل کرو وہ زبردست ہے۔ اس کے آگے ان کا زور نہیں چلے گا اور مہربان بھی ہے اپنی مہربانی سے ہر وقت محفوظ رکھے گا الذی یراک حین تقوم و تقلبک فی الساجدین وہ اللہ جو آپ کو دیکھتا ہے جبکہ آپ نماز تہجد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نیز نمازیوں میں آپ کا پھرنا بھی دیکھتا ہے کہ صفیں قائم کرتے ہو۔