بسم اللہ الرحمن الرحیم
{کتاب الایمان والعقائد}
فصل فی المتفرقات
(ایمان و عقائد سے متعلق متفرق مسائل کا بیان)
------------------------------------------------------------------

حضور ﷺ کے نعل مبارک کے نقش کو چومنے، اس جیسے نعل پہننے اور اس کے احترام کا حکم
سوال:
مکرم ومحترم جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اما بعد۔ (۱) جو چیز سرور کائنات ﷺ کے جسد اطہر سے متصل ہو گئی، اس کی برکات کا انکار تو کوئی جاہل یا ملحد ہی کرے گا لیکن اس شے کی مثل ہاتھ سے تیار کر لی جائے تو کیا اس میں بھی وہ برکت آجاتی ہے؟ بالفاظ دیگر متبرک شے کی تصویر بھی متبرک ہوتی ہے؟
(۲) آج کل سرور کائنات ﷺ کے نعل مبارک کا نقشہ بہت عام ہو گیا ہے، لوگ اس کو چومتے ہیں، برکت کیلئے سر پہ رکھتے ہیں، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس نقشہ کی یہ حقیقت مسلم کہ اس سے آپ ﷺ کے نعل مبارک کی صورت معلوم ہو گئی۔ روایات حدیث میں مذکور نعل کا سمجھنا آسان ہو گیا۔
(۳) کیا اس نقشے کے مطابق نعل بنوا کر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں، جبکہ سرور کائنات کی ہر ادا ہمارے لئے نمونہ ہے۔ آپ کی پگڑی جیسی پگڑی، قمیص جیسی قمیص بنوانا، پہننا سب باعث سعادت اور محبت کا تقاضہ ہے، کیا آپ ﷺ کے جوتے جیسا جوتا پہننا محبت کا تقاضہ ہے یا نہیں؟
(۴) نیز یہ بھی قابل دریافت ہے کہ یہ نقشہ اس وقت عام مروج تھا یا حضور ﷺ کے ساتھ خاص تھا، آپ ﷺ کا نعل مبارک صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانہ میں موجود تھا دیگر مستعمل کپڑوں، برتنوں کی طرح اس کو سنبھال کر رکھا گیا۔ جن حضرات کے پاس یہ موجود نہیں تھا کیا کسی روایت سے ثابت ہے کہ وہ لوگ کاغذ پر اس کی صورت بنا کر برکت حاصل کرتے ہوں۔ اگر ثابت نہ ہو تو آج اس کو باعث ثواب سمجھنا، سفر میں ساتھ رکھنا، برکت کیلئے دکانوں، مکانوں پر لگانا کیا بدعت نہیں ہوگا؟
(۵) روضۂ اقدس کی صحیح تصویر یعنی فوٹو، بیت اللہ کی صحیح تصویر بھی باعث برکت ہے یا نہیں؟ اب لوگ ان کپڑوں اور قالینوں پر نماز پڑھنا بے ادبی سمجھنے لگ گئے ہیں جن پر روضۂ اقدس کی تصویر ہو، اس کی کیا حیثیت ہے؟
(۶) اب نقش خاتم بھی شایع ہو گیا ہے۔ لوگ اس کی تصویر کو انوار و برکات کا باعث سمجھنے لگ گئے، اس کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ مجھے خطرہ ہے کہ غالی لوگوں کی طرف سے جلد ہی آپ ﷺ کی اونٹنی اور بغل اور حمار کی مثل شایع ہو کر ان کا بھی احترام نہ شروع ہو جائے۔ میرے غیر مرتب الفاظ کو اپنے مرتب الفاظ میں منتقل کر کے سوال و جواب اپنے ماہنامہ البلاغ میں شایع فرمادیں تو میرے جیسے کئی متحیر لوگوں کی رہنمائی ہو جائے گی۔