سوال:۔سائل ایک محکمہ سے ریٹائرڈ ہوا ہے ، اس محکمہ نے کچھ رقم دی جو کہ جی پی فنڈ کی صورت میں اس کی تنخواہ سے کاٹی جاتی تھی کچھ رقم سے مکان بنوائے اور کرایہ پر دیدئے کچھ رقم بینک اور ڈاکخانے میں اس لئے رکھ دی کہ ایک تو رقم محفوظ رہے گی دوسری بات یہ ہے کہ اس کی آمدنی سے گذراوقات ہوتا رہے گا ، اب دونوں کے بارے میں سود اور زکوٰۃ کے شرعی احکام بتائیں اور مکان کی آمدنی کی بچت پر زکوٰۃ ہوگی یا کل مکان کی قیمت پر ؟
جواب:۔جی پی فنڈ کی رقم سے آپ نے جو مکان بنوا کر کرایہ پر دیدئے تو اس کی اس کی آمدنی آپ کے لئے جائز ہے لیکن ج ورقم بینک یا ڈاک خانہ میں رکھی ہے اس پر جو سود لگتا ہے اس کا لینا حلال نہیں ، سرف اپنی اصل رقم وصول کرسکتے ہی ، اضافہ نہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوائیں جس پر سود نہیں لگتا اور مکان سے جو کرایہ ملے گا اس پر زکوٰ ۃ ہوگی ، مکان کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ۔
واللہ سبحانہ اعلم
۵؍۱۱؍۱۳۹۷ھ
بینک کی طرف سے ملنے والے سود پر زکوٰۃ کا حکم
سوال : ۔بینک یا ڈاک خانہ میں جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ہوگی یا اس کے منافع پر ؟
جواب : ۔بینک یا ڈاک خانے میں جتنی اصل رقم رکھی ہے اس پر زکوٰۃ فرض ہے لیکن جو اضافہ یا ڈاک خانے دیا ہو وہ سود ہے اس کا لینا حلال نہیں اور غلطی سے لیا ہو تو اس کو صدقہ کرنا واجب ہے ۔
واللہ اعلم