صورت میں اس پر مکمل مہر واجب ہوگا ، شوہر کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو طلاق دینے کے لئے مہر معاف کرنے کی شرط لگائے ، اس صورت میں اگر عورت مہر معاف کردے تو مہر معاف ہوجائے گا ۔
(نوٹ) مرد کو چاہیئے کہ جب وہ طلاق دے تو طلاق کا لفظ صرف ایک مرتبہ کہے ، اور ایک مرتبہ سے زیادہ طلاق نہ دے ، تین طلاق دینا ناجائز ہے ۔(۲)
واللہ اعلم
۴؍۷؍۱۳۸۸ھ
(۱)تفصیل کے لئے پچھلا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) حوالہ کے لئے ،ص:۳۲۰ کا حاشیہ نمبر ۱ و ۲ ملاحظہ فرمائیں۔
نامردی کے دعویٰ کو رد کرکے صرف ظلم کی بناء پر
فسخ نکاح کے عدالتی فیصلے کی شرعی حیثیت
سوال:۔ بیوی نے شوہر کے خلاف دو وجہ سے فسخ نکاح کا دعویٰ کیا ، ایک نامردی ، دوسرے ظلم کی بناء پر خلع بذریعہ عدالت ، عدالت نے نامردی کے سبب کو رد کردیا ، او ر ظلم کی بناء پر خلع کے دعویٰ کو صحیح مان کر نکاح فسخ کردیا ، کیا نکاح فسخ ہوگیا ؟
جواب:۔ صورت مسئولہ میں لڑکی کے فسخ نکاح کی شرعی صورت صرف یہ تھی کہ شوہر کا نامرد ہونا ثابت ہوجاتا اور علاج کے باوجود اس کی اصلاح نہ ہوتی ، لیکن منسلکہ فیصلے میں تصریح کی گئی ہے کہ عورت کا یہ الزام درست ثابت نہیں ہوا ، اگر واقعہ یہی ہے تو عورت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں ہے ، خلع کی جو بنیاد بیان کی گئی ہے وہ