سوال:۴۸۷۔ (۱) ایک شخص گانجہ بھنگ وغیرہ استعمال کرتا ہے یہ شخص امامت کر سکتا ہے۔
(۲) نشہ کرنے والے کی امامت کا کیا حکم ہے۔
(۳) مانگ کر گذر اوقات کرنے والا امامت کر سکتا ہے ؟
(۴) بے پردہ پھرنے والی عورت کے شوہر کا کیا حکم ہے بتاے ئے ؟ سائل عبدالحکیم مقام دونی ضلع ٹونک
جواب :۔ (۱) اس شخص کی امامت میں نماز مکروہ ہے۔
(۲) ایسے شخص کی اقتداء میں نماز نہ پڑھی جائے۔
(۳) اس کی امامت مکروہ ہے۔
(۴) اس کی امامت بھی مکروہ ہے۔ فقط احمد حسن غفرلہ،رجسٹر ۱۳۹۱ھ؁
﴿(قولہ وفاسق ) من الفسق، وہو الخروج عن الاستقامۃ، ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر، والزانی واٰکل الربوا ونحو ذالک ۔ شامی ص۵۶۰ ج۱ ۔ دار الفکر ﴾
سوال:۴۸۸۔ ایک امام تاش کھیلتا ہے۔ سنیما بھی دیکھتا ہے اور تعزیہ میں بھی شرکت کرتا ہے اس کی امامت کا حکم بتائیں۔ فقط سراج الدین صدر بازار پوسٹ آفس ڈونگر گڑھ راجستھان
جواب :۔ ان حالات میں یہ امام بدعتی ہے۔ اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ کوشش کی جائے کہ اچھا امام مل جائے۔ وکرہ اِمامۃ العبد والأعمیٰ والأعربی و ولد الزنا الجاہل والفاسق والمبتدع ۔ نور الایضاح فی فصل فی الاحق بالاِمامۃ ص۷۸ فقط ۲۵! جمادی ثانیہ ۱۳۹۵ھ؁ م ۱۵! جون ۱۹۷۵ء؁ یکشنبہ احمد حسن غفرلہ
سوال:۴۸۹۔ جو شخص جھوٹے مسئلے بیان کرے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔ سائل محمد وحید
الجواب :۔ ہو اﷲ الموفق للحق والصواب ۔ ایسے امام کی اقتداء میں نماز مکروہ ہے۔ فقط احمد حسن غفرلہ ۔
﴿ وتکرہ امامۃ ۔ ۔ ۔ والفاسق أی الخارج عن طاعۃ اﷲ تعالیٰ بارتکاب کبیرۃ لأنہ لا یہمّ بأمردینہ، مجمع الأنہر ص۱۰۸۔ بیروت ۔ ومفاد کون الکراہۃ فی الفاسق تحریمیۃ، الطحطاوی علی المراقی ص۳۰۳ المکتبۃ الأشرفے ّۃ ﴾
سوال:۴۹۰۔ ایک امام جو مدرس بھی ہے بچیوں سے ٹانگیں دبواتا ہے اور چونٹی بھی توڑتا ہے۔ بچیوں کے ماں باپ اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتے اور اسے لعن طعن کر تے ہیں اورامامت سے بر طرف کر دینا چاہتے ہیں۔ آیا ایسے امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ودرس وتدریس اس کے لئے صحیح ہے یا نہیں ؟ فقط ممتاز احمد فتح محمد حبیب احمد محمد عمر،عبد الکریم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، محلہ چھڑیان آخون جی والی مسجد،قصبہ ۔ ۔ ۔ ضلع مظفر نگر یوپی ۔
الجواب :۔ بے شک امام ومدرس کا یہ عمل غلط ہے اور غلطی کو نہ مان کر اس کی اہمیت کا احساس نکرنا اور بھی غلطی ہے۔ اگر یہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتا اور اصلاح کر لیتا ہے تو پھر اسے امامت ومدرسی پر رکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کے پیچھے نماز بھی پڑھتے رہنا چاہئے۔ لیکن اگر اعتراف واصلاح کر لینے کو تیار نہو تو پھر اس کی امامت مکروہ ہے۔ ۹!۳! ۱۹۸۸ء؁
سوال:۴۹۱۔ ایک مسلمان کی لڑکی کو جو کسی کی زوجہ بھی تھی کچھ ہندوفرار کر کے لے گئے اس کے فرار کرنے میں ایک مسجد کے امام نے بھی ہندو کی مدد کی اور لڑکی کو گھر سے لے جا کر خود ہندو کے حوالہ کیا تاکہ وہ اسے بھگا کر لے جائیں۔ معلوم کرنا یہ ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔ فقط رحیم بخش محلہ بیوپاریان شاہ پور ضلع متھرا تھانہ کوسی ۔
جواب :۔ اگر واقعی امام بھی اس حماقت میں شریک تھا تو پھر اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے ویکرہ امامۃ فاسق در مختار برحاشیہ شامی ۳۹۲ ج۱۔ ۲۷! ستمبر ۱۹۶۸ء؁ احمد حسن غفرلہ
سوال:۴۹۲۔ اگر امام کی اہلیہ چوڑی پہنانا وفروخت کرنا وگوشت فروخت کرنا جیسا کوئی بے پردگی کا کام کرے تو کیا اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے فقط ابو عبیدہ نلہ نیلگران جے پور
الجواب :۔ اگر زوجہ کا یہ عمل امام کی اجازت یا پسند سے ہے اور منع کر سکنے کے باوجود منع نہیں کرتا ہے تو ایسے امام کی امامت مکروہ ہے۔ ورنہ مکروہ نہیں۔ فقط ۲۵! صفر ۱۴۰۹ھ؁ م ۱۰! اکتوبر ۱۹۸۸ء؁ احمد حسن غفرلہ
سوال:۴۹۳۔ ایک حاجی صاحب ڈاڑھی رکھتے ہیں شرع ونماز پنجگانہ کے پابند ہیں مگر ان کے گھر چوڑی پہنانے کا مشغلہ ہے ان کی بیوی دوکان پر بیٹھ کر عورتوں