شریعت پاک کے نزدیک نیکی، ثواب کا کام،ایصال خیر کا طریقہ اور حصول اجر کا عمل وہی اچھا اور صحیح ہو سکتا ہے جو ارشاد خدا وندی کے مطابق ہو اور جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق ہو ۔ یا جن کی سند صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین کے دور مبارکہ سے ملتی ہو ۔ اس کے خلاف ہونے والے اعمال کا کوئی وزن نہیں ہوتا ۔ ایسے افعال کو خود ساختہ رسم تو کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے دین کا کام قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ گنا ہوں کے کفارہ کے لئے صرف کپڑے ، پیسے گوا ہوں کا اقرار ومدار یا لوگوں کا حلقہ بنا کر کچھ پڑھنا ۔ اپنے زعم وخیال کے مطابق دلوں کو خوش کرتا یا مطمئن بنا سکتا ہو گا ۔ لیکن شریعت کی نظر میں تو مرنے کے بعد انسان کے کام آنے یا اس کے لئے وبال بن جانے والے اس کے اپنے اعمال وافعال ہوتے ہیں یا پھر لوگوں کی دعائیں یا بعد والوں کا ایصال ثواب ۔ لیکن دعا اور ثواب کا ایصال اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب ان میں خلوص ہو، نمائش وریا نہ ہو ۔ اور خیر القرون کے طریقہ کے تحت کیا جائے ۔
اسقاط کی حیثیت صرف اسی قدر ہے کہ اگر کسی مومن کو مرض کی شدت نے نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے کی مہلت نہ دی ہو ۔ اور پھر وہ صحت پا چکا ہو لیکن صحت کی اس مدت میں اس نے قضا نماز یا روزہ کی قضا نہ کی ہو ۔ اس صورت میں اسے قضا شدہ نمازوں ،روزوں کے لئے اس کا کفارہ (جسے اسقاط بھی کہتے ہیں ) ادا کر نے کی وصیت کر دینی چاہئے۔ وصیت کی تکمیل میں وارث ترکہ کے تہائی سے تجاوز نہ کرتے ہوئے۔ ہر نماز کے بدل میں نصف صاع ( ایک کلو ۶۳۳ گرام ) گندم یا اس سے دو چند موٹا اناج ۔ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت یا قیمت کے بقدر کپڑا کسی غریب ومستحق کو دیدے۔ اس دینے میں نمائش یا غیر مستحق کو دینا یا پیشہ ورگداگر کو دینا ۔ یا اس دینے کو جملہ حقوق یا حقوق العباد کے بخشے جانے کا سبب ویقین سمجھنا غلط ہو گا ۔ ایصال ثواب کے لئے قرآن کریم کی تلاوت،غربا ومساکین کے کھانے یا کپڑے یا علاج سے اعانت یا دعاء کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان اعمال میں رسم سے زیادہ خلوص کو،میت کے ساتھ ہمدردی کو اور للٰہیت کو بنیادی حیثیت دینی چاہئے۔ فقط ۱۹! ذی قعدہ ۱۳۹۵ھ؁ م ۲۴! نومبر ۱۹۷۵ء؁ احمد حسن عفی عنہ ۔
قصر واتمام کے احکام
(سفر کے مسائل )
سوال:۶۴۹۔ ریل موٹر میں میں سفر کرتے ہوئے نماز قصر کتنی میل پر لا گو ہو گی ۔ ماسٹر محمد عباس امام مسجد نوا جھنجھنوں
جواب:۔ سفر ریل سے ہو، موٹر سے ، ہوائی جہاز سے ۴۴ میل کے فاصلہ والے سفر میں قصر کریں گے۔ البتہ مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو قصر نہ کر کے پوری نماز پڑھیں گے۔ فقط احمد
﴿غالباً یہاں میل شرعی مراد ہے۔ جو تقریباً ۴۸ میل انگریزی کے برابر ہے ﴾
قصر نماز
سوال:۶۵۰۔ ایک شخص اپنے وطن پیدائش سے اپنی ملازمت یا مزدوری یا کسی کاروبار کی وجہ میں ریل یا موٹر سے اتنا سفر روزانہ کرتا ہے کیا وہ حدود شرعیہ میں مسافر کہلانے کا مستحق ہے ؟ ایسی حالت میں وہ راستہ کی اور جائے تعیناتی کی نمازمیں قصر پڑھے یا پوری ادا کرے۔ قاضی دلشاد علی منتظم کمیٹی جالو پورہ جے پور
جواب:۔ یہ شخص قصر ہی کرے گا البتہ اپنے وطن میں پوری نماز پڑھتا رہے گا (شامی ) فقط ۸! جمادی الأخری ۹۱ ۱۳ھ ؁ م ۳۱ ! جولائی ۱۹۷۱ء؁ احمد حسن غفرلہ
﴿ قال المحقق داماد آفندی ؒ : من جاوز بیوت مصرہ۔ قصر الفرض الرباعی وصار فرضہ فیہ رکعتین ۔ ولایزال علیٰ حکم السفر حتی یدخل وطنہ ۔ ولو اقتدی المسافر فی الرباعی ولو قبل السلام بالمقیم فی الوقت ولو قدر التحریمۃ علی الأصح صحّ اقتداؤہ مجمع الأنہر ص۱۶۳ ج۱۔ دار احیاء التراث العربی ﴾
سفر قصر
سوال:۶۵۱۔ وہ فاصلہ کس قدر ہے کہ جس فاصلہ پر سفر کے لئے ارادہ سے نماز کو قصر کیا جانا ضروری بنجاتا ہے۔ عبد اﷲ
جواب:۔ اڑتالیس ۴۸ میل انگریزی وہ فاصلہ ہے کہ جس فاصلہ کا سفر کرنے سے نماز کا قصر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ۴۸ میل انگریزی کا فاصلہ ۸۲ کلو