خرج من بطنہا ولدحی قال عامّۃ العلماء یفعل بالولد ما یفعل بالأمّ الخ الفتاویٰ الہندیۃ ص ۳۰۴ ج۵ بیروت ۔

قربانی کے جانور میں لنگ سا ہے ؟
سوال:۱۳۷۸۔ ایک بکرا قربانی کی نیت سے پالا گیا ۔ اس کی عمر اس وقت ڈیڑھ سال ہے۔ رمضان المبارک میں اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جس کا علاج کر ادیا گیا تھا ۔ اب اس کے پیر میں لنگ سا ہے۔ کیا قربانی جائز ہے ؟ سائل عبدالرؤف محلہ پہاڑگنج یونانی ہسپتال جے پور
الجواب :۔ ہو اﷲ الموفق للحق والصواب ۔ اگر جانور کا لنگڑا پن زائد ونمایاں نہیں ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ احمد حسن
ولا یجوز ۔ ۔ ۔ العرجاء البین عرجہا وہی التی لا تقدر أن تمشی برجلہا اِلی المنسک، الفتاویٰ الہندیۃ ص ۲۹۷ ج۵ بیروت ۔
والعرجاء التی لا تمشی اِلی المنسک أی المذبح، رد المحتار ص۳۲۳ ج۶ دار الفکر
حرام دودھ سے پرورش پائے جانور کی قربانی کا حکم
سوال:۱۳۷۹۔ قربانی کے لئے بکری کا ایک بچہ خرید ا تھا کچھ دن تک وہ اپنی ماں کا دودھ پیکر پلا پھر ماں مرگئی اور پھر اس بچہ نے کتیا کا دودھ پیکر پرورش پائی یہاں تک کہ بڑا ہو گیا اس سال میں نے اسی ایک سال سے زائد عمر کے ہو جانے والے بکری کے بچہ کی قربانی کی ہے۔ قربانی ہوئی یا نہیں اگر نہ ہوئی ہو تو میں اب کیا کروں۔ محمد رفیق چاکسو راجستھان ۔ ۱۵! ذی الحجہ ۱۳۹۲ھ؁
جواب :۔ قربانی آپ کی ہو گئی اور پھر اس کا کھانا بھی صحیح ہوا ۔ حل أکل جدی غذی بلبن خنزیر لأن لحمہ لا یتغیر وما غذی بہ یصیر مستہلکا لا یبقی لہ اثر۔ در مختار ۔ ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۹۲ھ؁ م ۲۹! جولائی ۱۹۷۳ء؁ احمد حسن غفرلہ
الجدی اِذا کان یربی بلبن الأتان والخنزیر ان اعتلف أیّاماً فلا بأس لأنّہ بمنزلۃ الجلالۃ الخ، الفتاوی الہندیۃ ص۲۹۰ ج۵ بیروت ۔

نا قابل جفتی بکرا اور بانجھ بکری کی قربانی
سوال:۱۳۸۰۔ ایسا بکرا جو مادہ کے قابل نہو اور ایسی بکری جو جو بانجھ ہو گیا بھن نہو تی ہو عید الضحی کی قربانی میں کام آ سکتی ہے ، سائل فدا احمد نئی مسجد مکند گڑھ جھنجھنوں۔
جواب :۔ بکری گیابھن نہونا اور بکرے کا مادہ کے قابل نہونا ان کے کسی اندرونی مرض یا کمزوری سے بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ان کی قربانی ہو سکتی ہے ، لیکن اگر ایسا نہیں بلکہ یہ خنثیٰ کی حیثیت رکھتے ہیں تو پھر اس صورت میں ایسا جانور قربانی کے کام میں نہیں آ سکتا، ولا بالخنثی لأن لحہما لا ینضج، در مختار علی الشامی ج ۵ ص ۲۱۳، فقط احمد حسن غفرلہ ۔

غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا
سوال:۱۳۸۱۔ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سائلان بھندو خاں، سردار خاں، پہاڑگنج،جے پور
جواب :۔ دیا جا سکتا ہے ویہب منہا ما شاء للغنی والفقیر والمسلم والذمی کذا فی الخانیۃ ۔ عالمگیری باب ۵ کتاب الأضحیۃ ۔ ۱۲! اپریل ۱۹۷۳ء؁ احمد غفرلہ
﴿ الفتاویٰ الہندیۃ ص ۳۰۰ ج۵ بیروت ) ( یطعم منہا ما شاء للغنی، والفقیر، والمسلم، والذمیّ ۔ الفتاویٰ التاتار خانیۃ ج: /۱۷ ۴۳۷﴾

مرحوم کی جانب سے کی گئی قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں
سوال:۱۳۸۲۔ (۱) انتقال کر جانے والے عزیز وں یا بزرگوں کے نام کی قربانی کا جانور ذبح کر کے اس کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں ؟ (۲) قربانی کے گوشت سے غیر مسلم دوستوں اور غیر مسلم غریبوں کو دینے کی اجازت ہے ؟ بصیر الدین ایم ڈی روڈ جے پور
جواب :۔ (۱) جس طرح اپنی قربانی کا گوشت خود کھا نا، کسی کو کھلانا،عزیزوں وغیروں کو دینا جائز ہے اسی طرح مرحوم کے نام کی قربانی کا گوشت بھی خو کھانا، کسی کو کھلانا یا کسی کو بھی دینا جائز ودرست ہے۔
(۲) اسی طرح قربانی کا گوشت بھی جس کو چاہیں دے سکتے ہیں اور غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہیں۔ لو ضحّی عن میّت ۔ ۔ ۔ وان تبرع عنہ لہ الأکل شامی ص ۳۲۸ ج۵ ۔ ویہب منہا ما شاء للغنی والفقیر والمسلم والذمّی فتاوی عالمگیری ص ۲۰۱ ج۶ ۔ ۹! ذی حجہ ۱۴۰۹ھ؁ احمد حسن غفرلہ
( الفتاویٰ الہندیۃ ص۳۰۰ ج۵ بیروت )