بسم اﷲ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
حضرت مولانا مفتی محمد فاروق صاحب زید مجدہم خلیفۂ ومجاز حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ،ومہتمم جامعہ محمودیہ علی پور، میرٹھ
نمونۂ سلف حضرت مولانا مفتی حکیم احمد حسن خان صاحب زید مجدہم اپنی دینی وعلمی، اصلاحی وطبی خدمات کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ان کی گوناگوں خدمات کے احاطہ کے لئے ہزاروں صفحات درکار ہیں۔ یہاں ان کی عبقری شخصیت کے چند اہم گوشوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ حضرت مفتی صاحب کی تعلیم وتربیت ماہرین فنون وصاحب نظر بزرگوں کے زیرسایہ ہوئی ہے۔ ان کی پختہ صلاحیت متوازن فکر، اعتدال پر مبنی زندگی، اخلاق ومحبت، امن وانسانیت، اور معمولات کی پابندی و محافظت اس بات کی غمّا ز ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی اصلاح ورہنمائی کے لئے حضرت مفتی صاحب کو ایک خاص ماحول عطا فرمایا ۔ ان کی خداداد صلاحیت،ذوق وشوق،جذبہ وامنگ اور ادب واحترام کی وجہ سے ان کے اساتذۂ کرام نے پوری توجہ اور صلاحیت لگا دی ۔ اور ان کو زیور علم وتہذیب سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ حضرت مفتی صاحب اس پیرانہ سالی میں بھی پوری تندہی کے ساتھ اپنے معمولات کو انجام دیتے ہیں۔ یہ ان کا ہی حصہ ہے۔ ان کی زندگی عوام الناس ہی نہیں بلکہ علماء کے لئے بھی قابل رشک اور لائق تقلید ہے۔ حضرت مفتی صاحب ماہ رمضان المبارک میں ذکر وعبادت کے لئے خصوصیت سے یکسوہو جاتے ہیں۔
(۱) حضرت والا تقریباً ساٹھ سال تک شہر جے پور میں ہر سال ماہ رمضان المبارک میں تفسیر بیان فرماتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ۱۴۳۱ھ؁تک جاری رہا ۔
(۲) ہر ماہ کے آخری اتوار کو بعد عشاء اصلاحی خطاب فرماتے رہے ہیں۔
(۳) عیدین پر اہالیان جے پور کو ضروری مسائل وترغیب وفضائل سے نوازتے رہے ہیں۔
(۴) ’’ہلال کمیٹی جے پور ‘‘میں شہر قاضی جناب عقیل احمد عثمانی مرحوم کے شریک کار رہے۔ اور آج بھی بزرگانہ سرپرستی فرماتے رہتے ہیں۔
(۵) آپ کا درِ علم وحکمت طالبان علوم نبویاور تشنگان فنون طبّی کے لئے ہمیشہ کھلا رہا ۔ بہت سے اطباء وحکماء کو فنی کتب طبیہ کا در س دیا ۔ اور بعض افراد کو فقہ وحدیث وغیرہ سے فیضیاب فرماتے رہے ہیں۔ حضرت کے درسِ حدیث وسند حدیث کا سلسلہ عرب ممالک تک پہنچا ہوا ہے ۔ خود مرتب فتاوی نے مکمل کتب افتاء حضرت والا سے پڑھی ہیں اور آپ کی خدمت عالیہ میں رہ کر تحریر فتاویٰ کی مشق وتمرین کی ہے۔
(۶) حضرت مفتی صاحب انتہائی عدیم الفرصت اور کثیر المشاغل ہیں ، ایک طرف مریضوں کا معائنہ، امراض کی تشخیص، ادویہ کی تجویز، اور پھر دولت کدہ پر ادویہ سازی کی براہ راست نگرانی، دوسری طرف دیکھیں تو بالمشافہ شرعی مسائل وفتاویٰ کے مستفسرین کی کثرت، اور تحریری سوالات واستفتاآت کے جوابات لکھنا، پھر ذاتی انفرادی اشغال واوراد مزید برآں۔
ان تمام امور ومصروفیات کے باوجود تن تنہا نقول فتاویٰ کا اہتمام کرنا یقینا قابل رشک وموجب غبطہ ہے۔ اور اخلاف کے لئے درس عبرت، تقریباً نصف صدی تک ان الجھے ہوئے مسائل کو بھی حل فرماتے رہے ہیں۔ جن میں شرعی پنچایت یا قضاء قاضی کی ضرورت پیش آتی تھی ۔ اسی لئے وہ مظلوم وبیکس بے نوا وبے سہارا خواتین جن کے شوہر نہ حقوق زوجیت ادا کرتے ،نہ نان نفقہ کی خبر لیتے، مارتے کوٹتے ،اور پھر بہ بانگ دہل کہتے کہ نہ اپنے کام کی رکھوں گا نہ دوسرے کے کام کی چھوڑوں گا، نہ طلاق دوں گا نہ خلع دوں گا، جیسے تیرے دانت سفید ہیں ایسے ہی تیرے بال سفید کر دوں گا، اور تجھکو سڑاتا رہوں گا ۔ اور پورا سماج ومحلہ محض تماشائی بنا رہتا تھا ان حالات میں ان کے نکاح کے فسخ کی شرعی تکمیل فرما کر ان کے نکاح ثانی کی شکلیں نکالیں۔ بسا اوقات فسخ نکاح کے علاوہ فریقین کے نزاعی معاملات میں حکم بنایا جاتا اور آپ شرعی فیصلے صادر فرماتے تھے۔
(۷) ماہ مبارک میں اخبارات میں روزانہ دینی امور مختصراً تحریر فرماتے رہے ہیں۔
(۸) ہر سال ۲۷! ویں شب رمضان میں التزاماً اور موقعہ بہ موقعہ بھی ایک پمفلٹ شائع ہوتا رہتا ہے۔ جس کا عنوان ہے ’’ قرآنی تقاضے ‘‘ اس میں آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کے ذریعہ اصلاحی وتربیتی مضامین اردو وہندی میں شائع کئے جاتے ہیں۔ یہ’’ انجمن نوجوانان ملت جے پور‘‘ کے زیر انتظام شائع ہوتا ہے۔
(۹) آپ ان تمام اوصاف وکمالات اور بزرگانہ شان وعالی سند ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی متواضع، متحمل بردبار حلیم الطبع، خنداں جبیں، سادہ طبیعت، وسادگی پسند ہیں۔
(۱۰) آپ کی باقیات صالحات میں علاوہ فتاویٰ کے سفر نامۂ حج، اور ایک منظوم رسالہ ’’ ماذا یقول العبد المذنب الأحقر عند مجے ئہ روضۃ خیر البشر‘‘ اور بعض طبّی کتب پر تعلیقات وحواشی بزبان عربی تحریر ہیں۔ نیز ایک مجموعہ اشعار العرب فی العلم والاخلاق والادب بزبان عربی طبع ہو چکا ہے۔
حضرت مولانا مفتی حکیم احمد حسن خان صاحب مد ظلہ العالی کے مجموعۂ فتاویٰ کی پہلی جلد منظرعام پر آ کر مقبول ہو چکی ہے۔ دوسری جلد جلد ہی زیور طبع سے آراستہ ہونے کو ہے۔ اﷲ کرے یہ جلد بھی زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچ کر اس کا فائدہ عام وتام ہو جائے۔
حق تعالیٰ شانہ،حضرت مفتی صاحب کا سایہ تا دیر قائم رکھے تاکہ ان کے فیوض وبرکات سے امت مسلمہ مستفید ہوتی رہے۔ آمین
محب مکرم محترم مولانا مفتی محمد ذا کر صاحب زید مجدہم مرتب فتاویٰ علم وحکمت قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے شبانہ روز محنت وجانفشانی فرما کر یہ مجموعہ فتاویٰ علم وحکمت مرتب فرمایا اور باقی جلدوں پر بھی کام فرما رہے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ محترم موصوف کی محنت وقربانی کو قبول فرمائے اور ان کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے ،پوری پوری ان کی نصرت فرمائے ، اور مزید اس نوع کی خدمات کی توفیقات سے نوازے اور اپنے قرب خاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ، اخلاص واستقامت،عزت وعافیت کے ساتھ موصوف کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آمین
فقط، محمد فاروق غفرلہ
خادم جامعہ محمودیہ علی پور
۲۵! ۱! ۱۴۳۴ھ؁ ہاپوڑروڈ،میرٹھ،یوپی