بسم اللہ الرحمن الرحیم


عرض مرتب




نحمدہٗ ونصلي علی رسولہ الکریم أما بعد!
دارالافتاء مدرسہ عربیہ ریاض العلوم چوکیہ،گورینی ضلع جونپور (یوپی) سے مختلف مفتیان کرام کے لکھے ہوئے فتاویٰ ’’رجسٹر نقول فتاویٰ ‘‘ کے ۲۹؍ضخیم اجزا میں بے ترتیب، منتشر پھیلے ہوئے تھے، جن سے اپنے وقت میں صرف سائلین ہی نے استفادہ کیا تھا،اور یوں ایک’’ گنجینہ علم وحکمت‘‘محفوظ ہونے کے باوجود ناقابل استفادہ تھا، ارباب مدرسہ خصوصاً حضرت ناظم صاحب (حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب مدظلہ العالی ) کی اس پر نگاہ تھی ، اور حضرت اس کے لیے فکر مند تھے کہ اس دُرمکنون کو آب ورنگ دے کر اہل علم وعوام کی خدمت میں پیش کیا جائے، تاکہ لوگ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں۔
چنانچہ سال رواں اِن بکھرے ہوئے فتاویٰ کی ترتیب وتہذیب کی ذمہ داری احقر کے ناتواںکندھے پر ڈالی گئی ، اپنی کم علمی وبے بضاعتی کے باوجود خدا کی ذات پر بھروسہ کرکے کام شروع کیا گیا، اساتذہ کرام کی دعائیں ساتھ تھیں ،اور یوں بفضل خداوندی کام کی ایک کڑی (جلداوّل) تکمیل کو پہنچی۔ فالحمدللّٰہ علی ذلک
جمع فتاویٰ ، اجمالی تعارف : اگر چہ فتویٰ نویسی کا کام مدرسہ ضیاء العلوم مانی کلاں ہی سے ہورہا ہے لیکن اس وقت ان کے جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صورت یہ تھی کہ کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا اس کو زبانی بتلادیا ،ـیا پرچے پر لکھ کر دیدیااس کو لکھ کر محفوظ کرنے کاالتزام نہیں گیا، اسی وجہ سے حضرت والا حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالحلیم صاحب قدس سرہٗ کے فتاویٰ کثیر مقدار میں ہونے کے باوجود محفوظ نہ رہ سکے، صرف چند فتاوے دستیاب ہوئے، جوبعض حضرات اپنے طور پر محفوظ کیے ہوئے تھے۔
موجودہ فتاوے جو رجسٹر میں منقول ہیں، افسوس ! کہ ان میں حضرت والا کا