بسم اللہ الرحمن الرحیم
فتاویٰ دیوبند پاکستان المعروف بفتاویٰ فریدیہ (جلد سوم)
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی أشرف المرسلین سیدنا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین… أمابعد!
اللہ کریم کی خصوصی عنایات اور مہربانیوں پر بندہ کا قلب ودماغ حمد وشکر اور مسرت سے لبریز اور جبین نیاز رب کریم کے آگے سربسجود ہے کہ نو مہینے کی قلیل مدت میں فتاویٰ فریدیہ کی جلد ثالث منظر عام پر آرہی ہے اس جلد میں کتاب الصلوٰۃ کے آخری ابواب اور کتاب الزکاۃ مکمل شامل ہے اسی طرح کل دو ہزار دو سو پچاس مسائل تقریباً اٹھارہ سو ستر صفحات میں آپ کے ہاں پہنچ چکے فتاویٰ کی ترتیب وتخریج اور تہذیب وتزئین میں جس عرق ریزی اور محنت شاقہ سے واسطہ پڑتا ہے ارباب علم وفضل اس سے بے خبر نہیں ہیں لیکن یہ سب کچھ خداوند کریم کی رحمت خاص کی دستگیری اور توفیق نصیب ہونے پر موقوف ہے، دارالعلوم حقانیہ کے تیس سالہ غیر مرتب ریکارڈ جو سینکڑوں رجسٹروں پر مشتمل ہے میں سے ان بکھرے ہوئے مسائل کی تخریج وترتیب کی بیدار مغزی کے ساتھ ہر ایک مسئلہ کا مطالعہ کیا اور پھر ہر ایک مسئلہ کیلئے فقہی ذخائر سے استخراج جزئیات اور باحوالہ ذکرکرنا انتہائی مشکل اور کٹھن کام تھا لیکن توفیق ربی اور بزرگ ومہربان اساتذہ ومشائخ اور والدین کی دعاؤں سے یہ عظیم علمی خدمت کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے ورنہ مجھ جیسے ناکارہ اور سیاہ کار کیلئے اس کا تصور بھی محال تھا، اور اللہ کریم کا یہ بھی خصوصی فضل وکرم اور مہربانی ہے کہ سیدی وشیخی وسندی ومولائی حضرت مفتی صاحب متعنا اللہ تعالیٰ بطول حیاتہ وفیوضہ نے بیماری اور ضعف ونقاہت کے باوجود اس جلد کی بھی فصل فصل اور باب باب پر نظر ثانی فرماکر اسے مزید استناد اور استحکام سے نوازا اور جہاں تک بعض مسائل میں ضروری حواشی اور بحث وتحقیق کا تعلق ہے اس میں حتی الوسع کوئی کوتاہی نہیں کی گئی ہے پھر بھی انسان ٹھوکر کھانے سے محفوظ نہیں، برائے اصلاح مطلع فرمانے پر ہم مشکور ہوں گے، یہاں بندہ اپنے نگران اور مشفق استاذ حضرت مولانا مفتی سیف اللہ حقانی رئیس دارالافتاء جامعہ حقانیہ کی خدمت میں ہدیہ امتنان وتشکر پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتا ہے جنہوں نے اول سے اب تک قدم قدم پر رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ہے، حضرت الشیخ مفتی صاحب دامت برکاتہم کے تلامذہ، مریدین اور متعلقین کی خدمت میں بھی ہدیہ عقیدت ومحبت پیش کرتا ہوں جن کی دلی دعاؤں اور حوصلہ افزا کلمات سے یہ ساری جدوجہدجاری وساری ہے امید ہے حضرات علماء کرام اور طالبان علوم نبویہ استفادہ کے وقت اپنی دعاؤں میں بندہ حقیر پرُ تقصیر اور رفیقان کار حضرت مولانا حافظ حسین احمد صدیقی، مولانا مفتی عصمت اللہ حقانی، جناب سلطان فریدی اور حافظ ولی الرحمن صدیقی اور ان تمام حضرات کو جنہوں نے اس کام میں جس طور پر بھی کچھ حصہ لیا ہے یاد رکھیںگے۔ اللہ کریم اسے قبول فرمائے اور ہم سب کیلئے زاد آخرت اور فلاح دارین کا ذریعہ بنائے۔… آمین
طالب دعا : محمد وہاب منگلوری عفی عنہ
خادم العلم والافتاء بدارالعلوم صدیقیہ زروبی(صوابی)
۶/رجب۱۴۲۶ھ