المسجد۔
(البحر الرائق ۲:۱۸۷ فصل السلطان احق بصلاتہ)
{۳} قال العلامۃ ابن عابدین: (قولہ کما فی التشہد) ای المراد الصلاۃ الابراہیمیۃ التی یأتی بہا المصلی فی قعدۃ التشہد۔ (ردالمحتار ہامش الدرالمختار ۱:۶۴۴ مطلب ہل یسقط فرض الکفایہ بفعل الصبی باب الجنائز)
{۴}عن کعب بن عجرۃ قال قلت یارسول اللہ ہذا السلام علیک قد علمناہ فکیف الصلاۃ علیک؟ قال: قولوا: اللہم صل علی محمد وعلیٰ آل…(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
الی شروح دلائل الخیرات۔ لہٰذا اس زیادت کو بدعت قرار دینا بدعت ہے{۱}۔ وھوالموفق
خنثیٰ مشکل کے جنازہ کا طریقہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خنثیٰ مشکل کا جنازہ زنانہ جیسا پڑھایا جائے گا یا مردانہ جیسا، اس مسئلہ میں آئمہ کا راجح قول بیان فرماو یں؟ بینواتوجروا
المستفتی: شہزاد گل شیوہ مردان…۱۹۷۵ء/۸/۲۴
(بقیہ حاشیہ)محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم وبارک علی محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید۔ قال: ابو محمد عبد الرحمن کوثر البرنی فی تعلیقہ: فی اسناد المصنف یزیدبن ابی زیاد وہو ضعیف کان شیعیا، انظر التقریب (رقم ۲:۳۶۵)ومن طریقہ اخرجہ احمد فی مسندہ (۴:۲۴۴) لکن اصل الحدیث ثابت صحیح من حدیث الصحیحین ففی صحیح البخاری عن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ قال: لقینی کعب ابن عجرۃ فقال: الا اہدی لک ہدیۃ سمعتہا من النبیﷺ فقلت: بلی فاہدہا لی، فقال: سألنارسول اللہﷺ فقلنا: یار سول اللہ کیف الصلوٰۃ علیکم اہل البیت، فان اللہ قد علمنا کیف نسلم علیک، قال: قولوا’’ اللہم صل علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید، اللہم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم وعلی آل آبراہم انک حمید مجید،اخرجہ البخاری فی الانبیاء (رقم:۳۱۹۰) واخرجہ مسلم(۱:۱۷۵) الا انہ لم یقل (وعلیٰ آل ابراہیم)واخرجاہ من حدیث ابی حمید الساعدی رضی اللہ عنہ ایضا ببعض اختلاف فی اللفظ۔
واخرجہ مسلم من حدیث ابی مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ ایضا وفی آخرہ: کما بارکت علیٰ آل ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید۔
(عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی ۸۵ باب کیف الصلاۃ علی النبیﷺ)
وہکذا جمع الشیخ المحدث مولانا محمد ذکریا الکاندہلوی عدۃ صیغ الصلاۃ الابراہیمیۃ فی رسالتہ ’’فضائل درود شریف‘‘ فلیراجع ۔ (ازمرتب)
{۱} وفی المنہاج: اعلم انہ لم یرد فی ہذہ الروایۃ اجتماع …(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
الجواب: لم اجدہ صریحا فالاحوط ان یرجع الیہ ضمیر المذکر بتاویل الشخص او ضمیر المونث بتاویل النفس فافہم فانہ لا اشکال بعد البلوغ{۱}۔ وھوالموفق
مسلمان والدہ یا والدین کی متابعت کی وجہ سے بچہ پر نماز