بسم اللہ الرحمن الرحیم
فتاویٰ دیوبند پاکستان المعروف بفتاویٰ فریدیہ (جلد چہارم)
الحمد للہ القدیم المنعم العظیم وصلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد عبدہ الحلیم ورسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین، امابعد!
ارباب علم وفضل، فقہاء ومشائخ ، علماء وطلباء اور عام مسلمانوں کی خدمت میں فتاویٰ دیوبند پاکستان المعروف بفتاویٰ فریدیہ کی جلد چہارم پیش کی جارہی ہے، فقیر مرتب اللہ کریم کا شاکر بلا نہایت ہے کہ مجھ جیسے بے مایہ اور سیاہ کار کو اس علمی اور دینی خدمت کی توفیق بخشی، الحمد للہ حمداً کثیراً علی ذلک۔
فتاویٰ کی ابتدائی جلدوں میں سے جلد دوم اور سوم کے تین ایڈیشن نکل چکے ہیں جبکہ جلد اول کی ابھی تک چہار ایڈیشن نکلے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے خواص وعوام میں اس سلسلہ کو مقبولیت سے نوازا ہے اور امت مسلمہ برابر اس سے استفادہ فرمارہی ہے، یقینا یہ سب کچھ خانوادہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی دینی، علمی اوراصلاحی خدمات جلیلہ اور دارالعلوم حقانیہ کے فیضان کا نتیجہ ہے، اس جلد (چہارم )میں کتاب الصوم، کتاب الحج (کامل) اور کتاب النکاح کے بعض ابواب شامل کئے گئے ہیں حسب سابق اس جلد کی ترتیب وتخریج اور بحث وتزئین میں بھی ان شرائط اور لوازمات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے جو پہلی جلدوں میں ہم نے اختیار کئے تھے، بلکہ اس میں اس سے بھی زیادہ محنت اور لگن سے کام لیا گیا ہے، کامیابی اللہ کریم کے ہاتھ میں ہے۔
ہر باب اور فصل تیار ہوتے ہی رئیس دارالافتاء (جامعہ حقانیہ) حضرت مولانا مفتی سیف اللہ حقانی مدظلہ العالی کی خدمت میں پیش کیا جاتا ، آپ انتہائی جانفشانی کے ساتھ اس پر نظر ثانی فرماتے اور بعض مقامات پر جہاں آپ وضاحتی کلمات کا اضافہ محسوس کرتے آپ ہی کے حوالہ سے اس میں درج کئے گئے ہیں تا کہ کسی کا یہ خدشہ باقی نہ رہے کہ شاید اس میں حُک واضافہ کیا گیا ہے، ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کے فتاویٰ اپنی اصل شکل میں نقل ہوں اور حضرت مفتی صاحب کے ہزاروں شاگرد اور مریدین ومتعلقین یہ فیصلہ خود بھی کرسکتے ہیں کہ یقینا یہ فتاویٰ اپنی اصل شکل میں منقول ہیں۔
اللہ کریم کا اس پر بھی بندہ شاکر بلا نہایت ہے کہ سابقہ جلدوں کی طرح یہ جلد بھی ایک ایک باب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت اقدس میں پیش کی گئی اور شدید ضعف ونقاہت اور کمزوری وعلالت کے باوجود ملاحظہ فرما کر خوشی کا اظہار کیا، اللہ کریم سے دست بدعا ہوں کہ آنے والی جلدیں بھی اسی طرح آپ کی تصدیق وتصویب کے ساتھ شائع ہوں۔
ترتیب، حذف مکررات، تخریج وتحقیق میں تلاش وجستجو، کمپوزنگ کی نگرانی اور پروف میں فقیر نے کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی، بہرحال سولہ مہینے کی شبانہ روز محنت اور مسلسل کاوش کے بعد ہم اس سے سبکدوش ہورہے ہیں محدود وسائل اور بے مایہ صلاحیتوں کے ساتھ اس عظیم علمی وفقہی ذخیرہ کیلئے ہم جتنا کچھ بھی اپنی طالب علمانہ بساط کی حد تک اپنی کاوشوں کو بروئے کار لاسکتے تھے اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے : ؎ شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم