ہیں{۱} اور بعد میں یہ کلام کہ اپنا جہیز لے جاؤ اور لڑکی کو چھڑالو، قرینہ ہے طلاق کے عدم ارادے کا، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہیں اور اگر احتیاطا تجدید نکاح کر لے تو بہتر ہے اور عقد نکاح کیلئے یہ کافی ہے کہ زوجین اقارب کے روبرو ایجاب وقبول کرے{۲} فقط۔ وھوالموفق
فارغ کر دیا ہے، آزاد ہے حرام‘‘ الفاظ کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تلخ کلامی کے دوران کہا میں نے اسے (بیوی) کو فارغ کر دیا ہے جہاں چاہے یہ آزاد ہپے، مزید یہ
{۱} قال العلامۃ ابن عابدین: (قولہ قضاء) قید بہ لانہ لا یقع دیانۃ بدون النیۃ ولو وجدت دلالۃ الحال۔ (ردالمحتار ہامش الدرالمختار ۲:۵۰۲ باب الکنایات)
{۲} وفی الہندیۃ: واما رکنہ فالایجاب والقبول والایجاب ما یتلفظ بہ اولا من ای جانب کان والقبول جوابہ ہکذا فی العنایۃ۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ۱:۲۶۷ کتاب النکاح الباب الاول)
کہ اس کے بعد بھی مختلف موقعوں پر شخص مذکور نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کے الفاظ دہرائے ہیں ان سب باتوں کے باوجود وہ ایک گھر میں رہتے ہیں اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ بینواتوجروا
المستفتی: عبد العزیز سیر ہری پور…۱۹۸۶ء/۷/۲۳
الجواب: صورت مسئولہ میں تجدید نکاح کافی ہے، کیونکہ اولا ’’آزاد ہے‘‘ ہمارے بلاد کے محاورہ میں کنایات سے ہے اور اگر صریح ہونا تسلیم کیا جائے تو یہ بائن میں مستعمل کیا جاتا ہے وہکذا لفظ الحرام{۱}، والاصل ان البائن لا یلحق البائن{۲}۔ وھوالموفق
نکل جاؤ ورنہ میں طلاق دوں گا‘‘ کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے ساری عمر میری
{۱} قال العلامۃ ابن عابدین: وقد صرح البزازی اولا بان حلال اللہ علی حرام بالعربیۃ اوالفارسیۃ لا یحتاج الی نیۃ حیث قال ولو قال حلال ایزد بروی او حلال اللہ علیہ حرام لا حاجۃ الی النیۃ وہو الصحیح المفتی بہ للعرف وانہ یقع بہ البائن لانہ المتعارف ثم فرق بینہ وبین سرحتک فان سرحتک کنایۃ لکنہ فی عرف الفرس غلب استعمالہ فی الصریح فاذا قال رہا کردم ای سرحتک یقع بہ الرجعی مع ان اصلہ کنایۃ ایضا وما ذاک الا لانہ غلب فی عرف الفرس استعمالہ فی الطلاق وقد مر ان الصریح مالم یستعمل الا فی الطلاق من ای لغۃ کانت لکن لما غلب استعمال حلال اللہ فی البائن عند العرب والفرس وقع بہ البائن ولولا ذلک لوقع بہ الرجعی… والحاصل انہ لما تعورف بہ الطلاق صار معناہ تحریم الزوجۃ وتحریمہا لا یکون الا بالبائن ہذا غایۃ ما ظہر لی فی ہذا لمقام۔ (ردالمحتار ہامش الدرالمختار ۲:۵۰۳،۵۰۴ باب الکنایات)