پر حرام ہیں، یہ اس لڑکے کے رضاعی بھتیجیاں ہیں ،قال رسول اللہﷺ : یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب{۵}۔ وھوالموفق
{۱} (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۴۴۲ باب الرضاع)
{۲}وفی الہندیۃ: وتحل اخت اخیہ رضاعا کما تحل نسبا مثل الاخ لاب اذا کانت لہ اخت من امہ یحل لاخیہ من ابیہ ان یتزوجہا کذا فی الکافی۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ۱:۳۴۳ کتاب الرضاع)
{۳} وقال العلامۃ المرغینانی: ویجوز ان یتزوج الرجل باخت اخیہ من الرضاع لانہ یجوز ان یتزوج باخت اخیہ من النسب وذلک مثل الاخ من الاب اذا کانت لہ اخت من امہ جاز لاخیہ من ابیہ ان یتزوجہا۔ (ہدایۃ ۲:۳۳۱ کتاب الرضاع)
{۴}(بدائع الصنائع ۴:۴ کتاب الرضاع)
{۵}(رواہ البخاری ۲:۷۶۴باب قولہ تعالی وامھاتکم اللاتی ارضعنکم کتاب النکاح ) (ورواہ مسلم ۱:۴۶۷ باب الرضاعۃ من ماء الفحل ورواہ النسائی ۶:۱۰۰ باب تحریم بنت الاخ من الرضاع )
اجنبی لڑکے لڑکی کا اجنبی عورت سے دودھ پی کر دونوں میں رضاعت ثابت ہوتی ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید فاطمہ کا لڑکا اور زینب ہندہ کی لڑکی ہے، دونوں نے تیسری دایہ کا دودھ پی لیا، اب فقہ حنفی کی رو سے زید اور زینب کے درمیان عقد نکاح جائز ہے یا نہیں؟ یہ رضاعت صورت محرمہ میں سے ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
المستفتی: مولانا فضل مولیٰ صاحب دالبوڑی مدرس حقانیہ (حال مہتمم دارالعلوم دلبوڑی) …۱۹۸۹ء
الجواب: زید اور زینب کے درمیان نکاح حرام ہے کیونکہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں، قال رسول اللہﷺ: یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب{۱} وفی الدرالمختار: ولاحل بین رضیعی امرأۃ لکونہما اخوین وان اختلف الزمن{۲}۔ وھوالموفق
نانی کا دودھ پینے والے آپس میں رضاعی بھائی بہن ہیں
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت اپنے نواسوں کو جو لڑکا اور لڑکی ہے کو دودھ پلادے، کیا ان کے درمیان نکاح جائز ہوگا؟ بینواتوجروا
المستفتی:فضل ہادی…۱۹۷۴ء/۳/۱۹
ً الجواب: چونکہ یہ دودھ پینے والے آپس میں رضاعی بھائی بہن ہیں لہٰذا ان کے درمیان نکاح جائز نہیں ہے، کما صرحوا بہ {۳}۔ وھوالموفق
{۱} (رواہ البخاری ۵۱۰۰، ومسلم الرضاع۱۱،۱۲،۱۵ وغیرہما انظر تحفۃ الاشراف ۷:۴۰۱)
{۲} (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۴۴۳ باب الرضاع)