نام کتاب : فتاویٰ دیوبند پاکستان المعروف بفتاویٰ فریدیہ ( جلدہفتم)
افادات: محدث کبیر فقیہ العصر مفتی اعظم عارف باللہ مولانا مفتی محمد فرید مجددی زروبوی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث وصدر دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
ترتیب وتخریج: مولانا مفتی انورشاہ ،مولانا مفتی احمد عباس دارالافتاء دارالعلوم صدیقیہ
بسعی واہتمام : حضرت مولانا خواجہ حافظ حسین احمد صدیقی نقشبندی۔
کمپوزنگ: حافظ ولی الرحمن صدیقی…(لوندخوڑ)
ضخامت: ۶۱۶/صفحات
طبع بار دوم : ستمبر ۲۰۱۳؁ء ، شوال ۱۴۳۴؁ھ
تعداد بار دوم: بارہ سو…(۱۲۰۰)
قیمت :
نگرانی: مولانا مفتی سیف اللہ حقانی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

بسم اللہ الرّحمن الرحیم
فتاویٰ دیوبندپاکستان المعروف بفتاویٰ فریدیہ(جلدہفتم)
الحمدللّٰہ ربّ العالمین والصّلوۃ والسّلام علی خاتم ا لانبیاء والمرسلین وعلی اٰٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین وعلی من تبعھم باحسان الٰی یوم الدّین، امّا بعد!
اللہ کریم کاحددرجہ مشکور ہوں،شکریہ کے الفاظ لانے سے معذور ہوں اورد ل وجان سے انتہائی مسرورہوںکہ اس کے فضل وکرم سے فتاویٰ فریدیہ کی ساتویں جلد منظرعام پر آ گئی ،ربّ ذوالجلال کے حضوردست بدعاہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ بقیہ جلد وں پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
یقینا اس فتویٰ کے منظرِ عام پر آنے کیلئے احباب بہت انتظار کر چکے ہیں، لیکن چند عوارض اور نا مناسب حالات کے تجزیہ سے یہ بہت کم عرصے میں منصہ شھودپر آگیاہے، جن میں حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا
سانحۂ ارتحال ، فتاویٰ فر یدیہ کے نگرا ن، میرے مشفق استادحضرت مولانامفتی سیف اللہ حقانی رئیس دار الافتا ء دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پر فالج کا حملہ ،ہر مسئلہ کی ترتیب وتخریج،کمپوزنگ اور اس کی تصحیح اور بعض دوسرے نامساعد حالات خاص طور پر قابل ذکر ہیں اوران سب کے علاوہ احقر کی کم علمی اورنا تجربہ کاری بھی