زمین کو کاشت کرتاتھا اور اس سے منافع حاصل کرتاتھا، آخر کار اس نے ان حاصلات زمین سے ایک دوسری زمین خریدی ، اب یہ عورت دعوی کرتی ہے کہ اس زمین میں میرا بھی حصہ ہے، کیونکہ یہ مشترکہ حاصلات سے خریدی گئی ہے اب اس عورت کا اس زمین پر دعویٰ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
المستفتی: نامعلوم
الجواب: اس زنانہ کا دعویٰ غیر صحیح ہے کیونکہ یہ زمین حاصلات سے خریدی گئی ہے، اور حاصلات تمام کے تمام بھائی کے تھے {۲}۔ وھوالموفق
{۱} قال العلامۃ ابن عابدین: قد استفید من کلام الشارح ان عدم سماع الدعوی بعد ہذہ انما ہو للنہی عنہ من السلطان فیکون القاضی معزولا عن سماعہا لما علمت من ان القضاء یتخصص فلذا قال الا بامر ای فاذا امر بسماعہا بعد ہذہ المدۃ تسمع۔
وقال العلامۃ ابن عابدین: الثانی ان النہی حیث کان للقاضی لاینافی سماعہا من المحکم۔ (ردالمحتار ۴:۳۸۱ مطلب ہل یبقی النہی بعد موت السلطان)
{۲} وفی فتاویٰ ہندیۃ: واما حکمہا…(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ہبہ کے مدعی اور منکر کے درمیان فیصلہ
فریق اول: زروجان بیوہ وارث خان (مدعیہ)
فریق ثانی: دلیل خان (مدعیٰ علیہ)
دعوی بابت حصہ مکان، مدعیہ اس حصہ کا حمید خان کی طرف سے ہبہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور دلیل خان اس سے انکاری ہے۔
فیصلہ:
چونکہ مدعیہ کے گواہان (حسب اعتراف) نہ تھے تو مدعیہ اس مدعی علیہ کی قسم پر راضی ہو گئی اور مدعیہ نے مدعی علیہ (دلیل خان) کو قسم دی، پس اس بناء پر مدعیہ کے خلاف فیصلہ کیا گیا{۱}۔ وھوالموفق
(بقیہ حاشیہ) فہو ملک المنفعۃ للمستعیر بغیر عوض۔
(فتاویٰ عالمگیریۃ ۴:۳۶۳ کتاب العاریۃ، الباب الاول فی تفسیرہا شرعا ورکنہا الخ)
وفی شرح المجلۃ: المستعیر یملک منفعۃ العاریۃ بدون بدل فلیس للمعیر ان یطلب من المستعیر اجرتہا بعد الاستعمال۔
(شرح المجلۃ ۳:۳۱۱، المادۃ:۸۱۲ الفصل الثانی فی احکام العاریۃ)
{۱} قال العلامۃ ابن نجیم: (قولہ والا حلف بطلبہ) ای وان لم یکن للمدعی بینۃ حلف القاضی المدعی علیہ بطلب المدعی لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام للمدعی ٔالک بینۃ فقال لا فقال لک یمینہ۔
(البحر الرائق ۷:۲۰۳ کتاب الدعویٰ)
وفی شرح المجلۃ: احد اسباب الحکم الیمین او النکول عنہ ایضا وہو انہ اذا اظہر المدعی العجز عن اثبات دعواہ یحلف المدعی علیہ بطلبہ۔