چکھنا، اسے صرف چباکر پھینک دینا ، بیوی کے ساتھ ایسا عمل کرنا کہ بے قابو ہوجانے کا اندیشہ ہو، منہ میں خاص طور سے تھوک جمع کرنا اور پھر اسے نگل جانا، ایسے افعال کا مرتکب ہونا کہ جس سے بہت زیادہ کمزوری ہوجاتی ہے اور اندیشہ ہے کہ تاب نہ لاکر روزہ توڑ دے گا ۔(۲)
تیسرے وہ باتیں جو روزہ میں آداب کے درجہ میں ہیں، اگر ان کا لحاظ نہ کیا جائے تو




(۱) الجامع للترمذی ، حدیث نمبر : ۷۲۶ ۔
(۲) طحطاوی علی مراقی الفلاح : ص : ۳۷۱ ۔
قانونی اعتبار سے تو روزہ ہوجائے گا ،لیکن اندیشہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں روزہ مقبول نہ ہو، اور اس پر اجر و ثواب حاصل نہ ہو سکے ، جیسے : روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا ، یا غیبت کرنا وغیرہ کہ اس سے جھوٹ اورغیبت کا گناہ تو ہوگا ہی ، اندیشہ ہے کہ روزہ بھی اللہ کے یہاں مقبول نہ ہو۔
روزہ کی نیت
سوال:-{1111} ماہ رمضان میں علماء اور عوام روزہ کی نیت اس طرح کرتے ہیں : ’’ نویت أن أصوم غدًا لِلّٰہ تعالی من صوم رمضان ‘‘ حالانکہ یہ نیت اسی دن کے روزہ کی ہوتی ہے ، نہ کہ اگلے دن کے روزہ کی ، کیا نیت کے یہ الفاظ حدیث سے ثابت ہیں ؟ اگر نہیں تو حدیث سے جو الفاظ ثابت ہوں وہ تحریر کریں ۔
( سید حسین بن عثمان جیلانی، نواب صاحب کنٹہ)
جواب:- نیت دل کے ارادہ کا نام ہے نہ کہ زبان سے کہے ہوئے الفاظ کا ، زبان سے مزید اطمینان اور ذہن کے استحضار کے لئے نیت کے الفاظ کہے جاتے ہیں، مثلا : روزہ رکھنے کے ارادہ سے سحری کھانا خود نیت ہے ،نیت کے الفاظ قرآن یا حدیث میں منقول نہیں ہیں، رہ گئی یہ بات کہ ’’ غدًا ‘‘ کے معنی کل کے ہیں، جب کہ قمری تاریخ غروب آفتاب سے بدلتی ہے ،اور اس اعتبار سے صبح میں رکھاجانے والا روزہ ’’ آج ‘‘ ہی کا روزہ ہے ،نیز بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ صبح کے بعد نیت کی ، تو عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے ’’ یوم‘‘( آج ) کے بجائے ’’ غدًا‘‘ (کل ) کا لفظ لوگ استعمال کرتے ہیں ،تو اس سے نیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ عرف میں صبح کے طلوع ہونے سے آج اور کل کی تعبیر بدلتی ہے ،اس لئے رات میں یہ کہنا کہ میں کل کے روزہ کی نیت کرتاہوں ، اسی صبح کے بارے میں نیت ہے ،نیز نیت تو آج ہی روزہ رکھنے کی ہو ، لیکن ناواقفیت کی وجہ سے لفظ ’’ غدًا‘‘ (کل) کا استعمال کرلے تو اس سے