بھی روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، کیونکہ اعتبار دل کے ارادہ کا ہے ، اگر زبان سے الفاظ غلط بول دئے جائیں پھر بھی نیت ہی کا اعتبار ہوتاہے ،جیسے کوئی شخص ظہر کے ارادہ سے نماز پڑھ رہا ہے ، لیکن غلطی سے زبان سے عصر کی نماز کی نیت کا اظہار کرلے تو یہ ظہر ہی کی نیت سمجھی جائے گی ، نہ کہ عصر کی ۔
روزہ میں مسواک اور سرمہ وغیرہ
سوال:-{1112}مجھے پہلے دہے میں رمضان المبارک میںنا ندیڑ جانے کا اتفاق ہوا ، وہا ںمسجدمیں ماہ صیام کی تقویم کی تقسیم عمل میں آئی ، جو ناندیڑ ہی کے ایک مدرسہ کی شائع کی ہوئی ہے ، اس تقویم میں لکھا ہے کہ ان چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا : مسواک کرنا ،سرمہ لگانا، آنکھ میں دوا ڈالنا ، بھول کر کھانا پینااور جماع کرنا ، مجھے بڑی تشویش ہے کہ یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ ( ایم، اے، حسینی ، صلالہ اسکول ، بارکس )
جواب:- آپ نے جو بات پڑھی ہے وہ درست ہے ،مسواک چاہے خشک ہو یا تر ، اور صبح میں کی جائے یا دوپہر میں ، کوئی حرج نہیں:
’’ لا بأس بالسواک الرطب والیابس والغداۃ والعشي عندنا‘‘ (۱)
سرمہ لگانا بھی بلا کراہت جائز ہے، (۲) روزہ کی حالت میں اس کا جائز ہونا حدیث سے بھی ثابت ہے ، (۳) احناف کے نزدیک روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالی جائے تو


(۱) الفتاوی الھندیۃ : ۱/۱۹۹۔
(۲) حوالۂ سابق ۔ نیز دیکھئے : الھدایۃ :۱/۹۷ ، کتاب الفقہ : ۱/۵۱۷ ۔ محشی ۔
(۳) الجامع للترمذي ، حدیث نمبر : ۷۲۲ ۔ محشی ۔
روزہ نہیں ٹوٹتا ، (۱) بھول کر کھانے پینے یا جماع کرنے سے بھی روزہ فاسد نہیںہوتا، (۲) حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ بھول کر کھانا پینا روزہ کے لئے باعث فساد نہیں۔ (۳)
روزہ کی حالت میں بوس و کنار
سوال:- {1113} کیا روزہ کی حا لت میں کوئی شخص اپنی شریک حیات سے بوس و کنار کر سکتا ہے ؟
( امین اسلام ، دبیر پورہ)
جواب:- رسول اللہ ا سے روزہ کی حالت میں ازواج مطہرات کا بوسہ لینا ثابت ہے (۴) حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ