سلطانہ ، عطیہ سلطانہ ، کشن باغ )


(۱) فتاوی رحیمیہ :۶/۲۷۷ ۔ محشی ۔
(۲) سنن أبي داؤد، حدیث نمبر : ۴۰۳۱۔
جواب:- اگر لپ اسٹک میں کوئی حرام جزو نہ ہو اور وضوء کا پانی جسم تک پہونچنے میں رکاوٹ نہ بنتا ہو ، تو اس کا استعمال جائز ہے ، اگر کوئی حرام جزو اس کی بناوٹ میں شامل ہو تو اس کا استعمال جائز نہیں ، اگر حرام جزو تو شامل نہ ہو ، لیکن ہونٹ پر ایسی تہ جم جاتی ہو کہ وضوء کا پانی نہ پہونچ سکے تو جن عورتوں پر نماز واجب ہے ، ان کے لیے لپ اسٹک لگانا جائز نہیں ، جو عورتیں ایسی حالت میں ہوں کہ فی الحال ان پر نماز واجب نہیں اور نماز واجب ہونے سے پہلے لپ اسٹک صاف ہوجانے کی امید ہو ان کے لیے لگانے کی گنجائش ہے ۔
ناک چھیدنا
سوال:- {2027} مجھ سے ایک صاحب نے کہا کہ ناک چھیدنا اسلام میں حرام ہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟ ( زرینہ تبسم ، جہاں نما )
جواب:- جیسے کان زینت کی جگہ ہے ، اسی طرح ناک بھی زینت کی جگہوں میں ہے ، کان میں بالیاں پہننے کا ذکر خود حدیث میں ہے ،(۱) اور ظاہر ہے کہ سوراخ کرکے ہی پہنی گئی ہوں گی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناک میں زیور پہننے کے لیے سوراخ کرنا درست ہے ، نہ احادیث میں اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے ، نہ فقہاء نے اس کو منع کیا ہے ۔
آنکھ کھلے برقعے
سوال:- {2028} آج کل عورتیں نقاب لگاتی ہیں ، آنکھیں کھلی رہتی ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
(سمیع اللہ، ترکیسر ،گجرات)
جواب:- بہتر ہے کہ نقاب ایسا استعمال کیا جائے کہ آنکھ کے حصہ پر بھی جالی لگی ہو ،


(۱) صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۵۸۸۳ ،باب القرط للنساء ۔ محشی ۔
تاہم فقہاء کی تصریحات کے مطابق آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے ، تاکہ چلنے میں سہولت ہو ، اصل مسئلہ خود نقاب کی ہیئت کا ہے ، نقاب معمولی طور پر موٹے کپڑے کا ہونا چاہئے جس میں جاذبیت نہ ہو ،آج کل نئے نئے ڈیزائن