سے اخلاق باطنہ کی اصلاح ہو جاوے، سوئے ہوئے قلوب جاری ہوجاویں نیز اعمال میں نورانیت آجاوے میں ان باتوں کا اہتمام کیسے کروں۔
عمل کسی قدر ذکر معین کا ملین آپ مجھے طریق جذب کا راستہ دکھلائیے کیوں کہ ریاضت اور محنت کا راستہ بہت مشکل معلوم ہوتاہے کہاں تک خلوص واخلاص کی رعایت کی جاوے کبھی ریا پیدا ہوتاہے کبھی عجب پیداہوتاہے سب سے الگ الگ کہاں تک بچیں اور نفس محض عمل سے نہیں دبتا۔
الجواب وباﷲ التوفیق
جواب:بیعت ہونا تو ضروری نہیں ہے لیکن کسی مستند اور متبع سنت شیخ کا مل سے اجازت پڑھنے کی لے لینے سے برکت زیادہ ہوتی ہے اور توفیق خداوندی شامل حال رہتی ہے۔
متبع سنت عالم دین او رشیخ کامل جس کے یہاں اصلاح اخلاق کا خاص اہتمام ہو اور اس کی صحبت میں بیٹھنے سے دنیاکی محبت میں کمی ہوتی ہو اور اپنی اصلاح کی خواہش ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہو تواس کے سپرد اپنے کو کردیجئے اور اس سے اپنے اخلاق کی اصلاح کرائیے اس کی بڑھتی ہوئی محبت۔
دل آرائے کہ داری دل دردمند
دیگر چشم از ہمہ عالم خردمند
کامصداق بن جائے تو انشاء اللہ نصرۃ خداوندی شامل حال ہوجاوے گی ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح ہوکر بعد چندے دونوں معمور و منور ہوجاویں گے اور قلب جاری نہیں بلکہ مسکن تجلیات آگہی ہوجائے گا خداوند پاک کا ارشاد پاک ہے یٰا ایہا الذین آمنوا کونوا مع الصادقین (الآیہ)۔
اور اس سے آپ کے تمام مقاصد مذکورہ سوال بھی با عافیت وبآسانی حاصل ہوجائیں گے اوراگر ان اوصاف و آثار مذکورہ بالا اوصاف سے متصف کئی مشائخ آپ کے نظر میں یکساں ہوں تو پھر آپ استخارہ مسنونہ جو فقہ کی عام کتابوں میں نیز احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں کرلیجئے۔ جیسے مشکوٰۃ شریف ،شامی، عالمگیری خود بہشتی زیورہ وغیرہ۔ اسمیں طریقہ استخارہ دیکھ کر عمل کرلیجئے پھر ان کا ملین مشائخ میں سے جس کی طرف میلان زیادہ ہو اس سے اپنا اصلاحی تعلق قائم فرماکر اخلاص سے عمل شروع کریں اور کام میں آنکھ بند کرکے لگ جائیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
الجواب صحیح کتبہ الاحقر محمد نظام الدین غفرلہ
سید احمد علی سعید مفتی u
نائب مفتی u ۲۲؍۱۲؍۱۳۸۷ھ